(۳۳۵۸۳) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ہِشَامٌ ، عَنِ ابْنِ سِیرِینَ ، عَنِ الأَحْنَفِ بْنِ قَیْسٍ ، قَالَ : کُنَّا جُلُوسًا بِبَابِ عُمَرَ فَخَرَجَتْ جَارِیَۃٌ فَقُلْنَا : سُرِّیَّۃُ عُمَرَ ، فَقَالَتْ : إِنَّہَا لَیْسَتْ سُرِّیَّۃً لِعُمَرَ ، إنِّی لاَ أَحِلُّ لِعُمَرَ، إنِّی مِنْ مَالِ اللہِ فَتَذَاکَرْنَا بَیْنَنَا مَا یَحِلُّ لَہُ مِنْ مَالِ اللہِ ، قَالَ : فَرَقَی ذَلِکَ إلَیْہِ ، فَأَرْسَلَ إلَیْنَا ، فَقَالَ : مَا کُنْتُمْ تُذَاکِرُونَ فَقُلْنَا : خَرَجَتْ عَلَیْنَا جَارِیَۃٌ ، فَقُلْنَا : سُرِّیَّۃُ عُمَرَ ، فَقَالَتْ : إِنَّہَا لَیسْت سُرِّیَّۃِ عُمَرَ ، إِنَّہَا لاَ تَحِلُّ لِعُمَرَ ، إِنَّہَا مِنْ مَالِ اللہِ ، فَتَذَاکَرْنَا مَا بَیْنَنَا مَا یَحِلُّ لَکَ مِنْ مَالِ اللہِ ؟ فَقَالَ : أَنَا أُخْبِرُکُمْ بِمَا أَسْتَحِلُّ مِنْ مَالِ اللہِ : حُلَّۃُ الشِّتَائِ وَالْقَیْظِ ، وَمَا أَحُجُّ عَلَیْہِ ، وَمَا أَعْتَمِرُ مِنَ الظَّہْرِ ، وَقُوتُ أَہْلِی کَرَجُلٍ مِنْ قُرَیْشٍ ، لَیْسَ بِأَغْنَاہُمْ ، وَلاَ بِأَفْقَرِہِمْ ، أَنَا رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِینَ یُصِیبُنِی مَا أَصَابَہُمْ۔
(٣٣٥٨٣) حضرت ابن سیرین (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت احنف بن قیس (رض) نے ارشاد فرمایا : کہ ہم لوگ حضرت عمر (رض) کے دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں ایک باندی نکلی ہم نے اسے کہا : عمر کی باندی، تو وہ کہنے لگی کہ میں عمر کی باندی نہیں ہوں اور نہ میں عمر کے لیے حلال ہوں۔ میں تو اللہ کا مال ہوں۔ راوی فرماتے ہیں : پھر ہم لوگ آپس میں اس بات کا تذکرہ کرنے لگے کہ اللہ کے مال میں سے حضرت عمر (رض) کے لیے کیا حلال ہیْ اس کی آواز حضرت عمر (رض) تک پہنچ گئی تو آپ (رض) نے ہمیں قاصد بھیج کر بلایا اور پوچھا : تم لوگ کیا باتیں کر رہے ہو ؟ ہم نے عرض کیا : ہمارے پاس ایک باندی آئی تو ہم نے اسے کہا : عمر کی باندی ، اس پر وہ کہنے لگی کہ وہ عمر کی باندی نہیں ہے، نہ ہی وہ عمر (رض) کے لیے حلال ہے، بیشک وہ تو اللہ کا مال ہے۔ ادھر ہم نے اس بات کا تذکرہ شروع کردیا کہ اللہ کے مال میں سے کتنی مقدار آپ (رض) کے لیے حلال ہے۔ آپ (رض) نے فرمایا : میں تمہیں بتلاتا ہوں کہ میں نے اللہ کے مال میں کتنی مقدار کو حلال سمجھا ہے۔ گرمی اور سردی کا ایک جوڑا اور جس سواری پر میں حج کرتا ہوں اور جس پر میں عمرہ کرتا ہوں۔ اور میرے گھرو الوں کا راشن جو قریش کے عام آدمی کے برابر ہے۔ نہ قریش کے مالداروں کی طرح ہے نہ ان کے فقراء کی طرح۔ اور میں بھی مسلمانوں میں سے ایک آدمی ہوں جو ضروریات ان کی ہیں وہی ضروریات مجھے بھی لاحق ہیں۔