(۳۳۵۸۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا الْمَسْعُودِیُّ ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، عَنِ الأَحْنَفِ بْنِ قَیْسٍ أَنَّہُمْ کَانُوا جُلُوسًا بِبَابِ عُمَرَ ، فَخَرَجَتْ عَلَیْہِمْ جَارِیَۃٌ ، فَقَالَ لَہَا بَعْضُ الْقَوْمِ : أیطأکِ أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، قَالَتْ : إنِّی لاَ أَحِلُّ لَہُ ، یَعْنِی أَنَّہَا مِنَ الْخُمُسِ ، فَخَرَجَ عُمَرُ ، فَقَالَ : تَدْرُونَ مَا أَسْتَحِلُّ مِنْ ہَذَا الْفَیْئِ ظَہْرًا أَحُجُّ عَلَیْہِ وَأَعْتَمِرُ ، وَحُلَّتَیْنِ : حُلَّۃُ الشِّتَائِ وَالصَّیْفِ ، وَقُوتُ آلِ عُمَرَ قُوتُ أَہْلِ بَیْتِ رَجُلٍ مِنْ قُرَیْشٍ لَیْسُوا بِأَرْفَعِہِمْ ، وَلاَ بِأَخَسِّہِمْ۔
(٣٣٥٨٤) حضرت محارب بن دثار (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت احنف بن قیس (رض) نے ارشاد فرمایا : کہ ہم لوگ حضرت عمر (رض) کے دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں ہمارے پاس ایک باندی نکل کر آئی۔ لوگوں میں سے ایک آدمی نے اس سے پوچھا : کیا امیر المؤمنین نے تجھ سے وطی کی ہے ؟ وہ کہنے لگی : بلاشبہ میں ان کے لیے حلال نہیں ہوں۔ اس باندی کا مطلب یہ تھا کہ وہ مال خمس میں سے ہے اتنے میں حضرت عمر (رض) بھی نکل آئے اور فرمانے لگے۔ کیا تم جانتے ہو کہ میں نے اس مال فئی میں سے اپنے لیے کتنی مقدار حلال سمجھی ہے ؟ ایک سواری جس پر میں حج کرتا ہوں اور عمرہ کرتا ہوں۔ اور دو کپڑوں کے جوڑے، سردیوں کا جوڑا اور گرمیوں کا جوڑا اور عمر کے اہل خانہ کا راشن جو قریش میں سے ایک آدمی کے اہل خانہ کے راشن کے برابر ہے جو نہ زیادہ مالدار ہو اور نہ ہی زیادہ غریب ہو۔