hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 33594

.

ابن أبي شيبة

33594
Ibn Abi Shaybah
(۳۳۵۹۵) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ زَیْدَ بْنَ أَسْلَمَ یَذْکُرُ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : رَأَیْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ اسْتَعْمَلَ مَوْلاَہُ ہُنَیَّا عَلَی الْحِمَی ، قَالَ : فَرَأَیْتہ یَقُولُ ہَکَذَا : وَیْحُک یَا ہُنَی، ضُمَّ جَنَاحَک عَنِ النَّاسِ ، وَاتَّقِ دَعْوَۃَ الْمَظْلُومِ ، فَإِنَّ دَعْوَۃَ الْمَظْلُومِ مُجَابَۃٌ أَدْخِلْ رَبَّ الصَّرِیمَۃِ وَالْغَنِیمَۃِ، وَدَعْنِی مِنْ نَعَمِ ابْنِ عَفَّانَ ، وَابْنِ عَوْفٍ ، فَإِنَّ ابْنَ عَوْفٍ ، وَابْنَ عَفَّانَ إِنْ ہَلَکَتْ مَاشِیَتُہُمَا رَجَعَا إلَی الْمَدِینَۃِ إلَی نَخْلٍ وَزَرْعٍ ، وَإِنَّ ہَذَا الْمِسْکِینَ إِنْ ہَلَکَتْ مَاشِیَتُہُ جَائَنِی یَصِیحُ ، یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، فَالْمَائُ وَالْکَلأُ أَہْوَنُ عَلَیَّ مِنْ أَنْ أَغْرَمَ ذَہَبًا وَوَرِقًا ، وَاللہِ وَاللہِ وَاللہِ إِنَّہَا لَبِلاَدِہُمْ فِی سَبِیلِ اللہِ قَاتَلُوا عَلَیْہَا فِی الْجَاہِلِیَّۃِ وَأَسْلَمُوا عَلَیْہَا فِی الإِسْلاَمِ ، وَلَوْلاَ ہَذَا النَّعَمُ الَّذِی یُحْمَلُ عَلَیْہِ فِی سَبِیلِ اللہِ مَا حَمَیْت عَلَی النَّاسِ مِنْ بِلاَدِہِمْ شَیْئًا۔
(٣٣٥٩٥) حضرت اسلم (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب (رض) کو دیکھا کہ انھوں نے اپنے آزاد کردہ غلام ھُنیّ کو چراگاہ پر امیر بنایا۔ راوی کہتے ہیں : کہ میں نے آپ (رض) کو اسے یوں فرماتے ہوئے سنا : ہلاکت ہو اے ھنیی ! لوگوں کے ساتھ نرمی برتو ، اور مظلوم کی بددعا سے بچو۔ اس لیے کہ مظلوم کی بددعا قبول کی جاتی ہے۔ تم درختوں اور مال غنیمت کے منتظم بن کر داخل ہو۔ اور تم مجھے چھوڑ دو ابن عفان اور ابن عوف کے جانوروں کے بارے میں کہ اگر ابن عوف اور ابن عفان ان دونوں کے مویشی ہلاک بھی ہوگئے تو یہ دونوں مدینہ میں اپنے کھجور کے درختوں اور کھیتی کی طرف لوٹ جائیں گے ۔ اور اگر ان مسکینوں کے مویشی ہلاک ہوگئے تو یہ میرے پاس آئیں گے چیختے ہوئے۔ اے امیر المؤمنین ! اے امیر المؤمنین ! اور پانی اور چارہ مجھ پر آسان ہے اس بات سے کہ میں ان کو سونا اور چاندی بدلہ میں دوں ، اللہ کی قسم ! اللہ کی قسم ! اللہ کی قسم !۔