(۳۳۵۹۴) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ بُرَیْدَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إذَا بَعَثَ أَمِیرًا عَلَی سَرِیَّۃٍ ، أَوْ جَیْشٍ أَوْصَاہُ فِی خَاصَّۃِ نَفْسِہِ بِتَقْوَی اللہِ وَبِمَنْ مَعَہُ مِنَ الْمُسْلِمِینَ خَیْرًا ، قَالَ : اغْزُوا فِی سَبِیلِ اللہِ ، قَاتِلُوا مَنْ کَفَرَ بِاللہِ ، اغْزُوا ، وَلاَ تَغُلُّوا ، وَلاَ تَغْدِرُوا ، وَلاَ تُمَثِّلُوا ، وَلاَ تَقْتُلُوا وَلِیْدًا۔
(٣٣٥٩٤) حضرت بریدہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب کسی شخص کو کسی جماعت یا لشکر پر امیر بنا کر بھیجتے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کو خاص طور پر اللہ کے تقوی کی وصیت فرماتے۔ اور اس کے ساتھ جو مسلمان ہیں ان سے بھلائی کرنے کی وصیت فرماتے۔ اور فرماتے : اللہ کے راستہ میں جہاد کرنا، ان لوگوں کے ساتھ قتال کرنا جنہوں نے اللہ کے ساتھ کفر کیا، جاؤ اور خیانت مت کرنا نہ ہی غداری کرنا۔ اور لوگوں کے ہاتھ، پاؤں کاٹ کر مثلہ مت بنانا۔ اور نہ ہی بچوں کو قتل کرنا۔