(۳۳۶۴۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ وَاصِلٍ الأَحْدَبِ ، عَنْ أَبِی وَائِلٍ ، قَالَ : جَلَسْت إلَی شَیْبَۃَ بْنِ عُثْمَانَ ، فَقَالَ لِی ، جَلَسَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مَجْلِسَک ہَذَا ، فَقَالَ : لِی : لَقَدْ ہَمَمْت أَنْ لاَ أَدَعَ فِی الْکَعْبَۃِ صَفْرَائَ ، وَلاَ بَیْضَائَ إِلاَّ قَسَمْتہَا بَیْنَ النَّاسِ ، قَالَ : قُلْتُ لَہُ : لَیْسَ ذَلِکَ إلَیْک ، قَدْ سَبَقَک صَاحِبَاک فَلَمْ یَفْعَلاَ ذَلِکَ ، قَالَ : ہُمَا الْمَرْآنِ یُقْتَدَی بِہِمَا۔ (بخاری ۱۵۹۴۔ احمد ۴۱۰)
(٣٣٦٤٧) حضرت ابو وائل (رض) فرماتے ہیں کہ میں حضرت شیبہ بن عثمان (رض) کے پاس بیٹھا تو انھوں نے مجھ سے فرمایا : کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) تمہاری اس جگہ پر بیٹھے تھے اور مجھ سے فرمایا : کہ تحقیق میرا ارادہ ہے کہ میں کعبہ میں کوئی سونا چاندی نہیں چھوڑوں گا مگر میں اس کو لوگوں کے درمیان تقسیم کر دوں گا۔ میں نے ان سے کہا : اس کا آپ (رض) کو اختیار نہیں ہے۔ تحقیق آپ (رض) کے دو ساتھی گزر چکے اور ان دونوں نے یہ کام نہیں کیا۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : ہاں وہ دونوں ایسی شخصیات ہیں کہ ان کی اقتداء کی جانی چاہیے ۔