(۳۳۶۴۸) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عْن أَسْلَمَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ یَقُولُ : وَالَّذِی نَفْسُ عُمَرَ بِیَدِہِ ، لَوْلاَ أَنْ یُتْرَکَ آخِرُ النَّاسِ لاَ شَیْئَ لَہُمْ مَا افْتُتِحَ عَلَی الْمُسْلِمِینَ قَرْیَۃٌ مِنْ قُرَی الْکُفَّارِ إِلاَّ قَسَمْتُہَا سُہْمَانًا کَمَا قَسَمَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خَیْبَرَ سُہْمَانًا ، وَلَکِنْ أَرَدْت أَنْ یَکُونَ جِرْیَۃً تَجْرِی عَلَیْہِمْ وَکَرِہْتُ أَنْ یُتْرَکَ آخِرُ النَّاسِ لاَ شَیْئَ لَہُمْ۔ (بخاری ۲۳۳۴۔ احمد ۴۰)
(٣٣٦٤٨) حضرت اسلم (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر (رض) کو یوں فرماتے ہوئے سنا کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں عمر کی جان ہے ! اگر یہ خوف نہ ہوتا کہ بعد والے لوگ رہ جائیں گے اور ان کو کچھ حصہ نہیں ملے گا۔ تو میں جتنی بھی کافروں کی بستیاں مسلمانوں نے فتح کی ہیں ان سب کو ایسے ہی حصوں میں تقسیم کردیتا جیسے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خیبر کو حصوں میں تقسیم فرمایا تھا۔ لیکن میں نے ارادہ کیا ہے کہ ان کے لیے وظیفہ جاری کردیا جائے۔ اس لیے کہ میں ناپسند کرتا ہوں کہ بعد والے لوگ ایسے رہ جائیں کہ ان کے لیے کچھ بھی نہ ہو۔