(۳۳۷۰۱) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ، عَنِ الشَّیْبَانِیِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَیْدِ اللہِ الثَّقَفِیِّ، قَالَ: أَتَی عُمَرَ رَجُلٌ مِنْ ثَقِیفٍ، یُقَالَ لَہُ : نَافِعٌ أَبُو عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : فَکَانَ أَوَّلَ مِنَ افْتَلَی الْفَلاَ بِالْبَصْرَۃِ ، قَالَ ، فَقَالَ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، إِنْ قِبَلَنَا أَرْضًا بِالْبَصْرَۃِ لَیْسَتْ مِنْ أَرْضِ الْخَرَاجِ ، وَلاَ تَضُرُّ بِأَحَدٍ مِنَ الْمُسْلِمِینَ فَإِنْ رَأَیْت أَنْ تُقْطِعَنِیہَا أَتَّخِذُہَا قَضْبًا لِخَیْلِی فَافْعَلْ ، قَالَ : فَکَتَبَ عُمَرُ إلَی أَبِی مُوسَی : إِنْ کَانَ کَمَا قَالَ فَأَقْطِعْہَا إیَّاہُ۔ (ابوعبید ۶۸۷)
(٣٣٧٠١) حضرت محمد بن عبید اللہ الثقفی (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) کے پاس قبیلہ ثقیف کا ایک شخص آیا جس کا نام نافع ابو عبداللہ تھا ۔ یہ پہلا شخص تھا جس نے بصرہ کی بےآب وگیاہ وادی کو چراگاہ بنایا۔ اس نے عرض کیا : اے امیر المؤمنین ! ہماری طرف بصرہ میں ایک زمین ہے جو خراج کی زمین نہیں ہے اور نہ وہ مسلمانوں میں کسی کو نقصان پہنچائے گی اگر آپ مناسب سمجھیں تو وہ میرے نام کردیں میں اس میں اپنے گھوڑوں کے لیے گھاس اُگاؤں گا۔ آپ (رض) ایسا کردیں۔ راوی کہتے ہیں : حضرت عمر (رض) نے حضرت ابو موسیٰ (رض) کو خط لکھا۔ اگر بات ایسے ہی ہے جیسا کہ اس نے کہا ہے۔ تو تم وہ زمین اس کے نام کردو۔