(۳۳۷۰۲) حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا رَجُلٌ مِنْ بَنِی زُرَیْقٍ ، قَالَ : أَقْطَعَ أَبُو بَکْرٍ طَلْحَۃَ أَرْضًا وَکَتَبَ لَہُ بِہَا کِتَابًا وَأَشْہَدَ بِہِ شُہُودًا فیہم عُمَرُ ، فَأَتَی طَلْحَۃَ عُمَرُ بِالْکِتَابِ ، فَقَالَ : اخْتِمْ عَلَی ہَذَا ، قَالَ : لاَ أَخْتِمُ عَلَیْہِ ، ہَذَا لَکَ دُونَ النَّاسِ قَالَ : فَانْطَلَقَ طَلْحَۃُ وَہُوَ مُغْضَبٌ ، فَأَتَی أَبَا بَکْرٍ ، فَقَالَ : وَاللہِ مَا أَدْرِی أَنْتَ الْخَلِیفَۃُ ، أَوْ عُمَرُ ، قَالَ : لاَ بَلْ عُمَرُ لَکِنَّہُ أَبَی۔
(٣٣٧٠٢) حضرت ابن عون (رض) فرماتے ہیں کہ قبیلہ بنو زریق کے ایک شخص نے بیان کیا کہ حضرت ابوبکر (رض) نے حضرت طلحہ (رض) کے نام ایک زمین کردی اور ان کے لیے اس بارے میں ایک تحریر بھی لکھ دی اور اس پر گواہ بھی بنا دیے جن میں حضرت عمر بھی شامل تھے۔ حضرت طلحہ (رض) تحریر لے کر حضرت عمر (رض) کے پاس آئے اور کہا : اس پر مہر لگا دو ۔ آپ (رض) نے فرمایا : میں اس پر مہر نہیں لگاؤں گا ۔ کیا یہ لوگوں کو چھوڑ کر صرف تیرے لیے ہے ؟ راوی کہتے ہیں : حضرت طلحہ (رض) چلے گئے اس حال میں کہ وہ بہت غصہ میں تھے ۔ پس وہ حضرت ابوبکر (رض) کے پاس آئے اور فرمایا : اللہ کی قسم ! میں نہیں جانتا کہ تم خلیفہ ہو یا عمر ؟ آپ (رض) نے فرمایا : نہیں ! بلکہ عمر (رض) نے تو صرف انکار کیا ہے !