hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 33707

.

ابن أبي شيبة

33707
Ibn Abi Shaybah
(۳۳۷۰۸) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ یُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ أَنَّ عُیُونًا لِمُسَیْلِمَۃَ أَخَذُوا رَجُلَیْنِ مِنَ الْمُسْلِمِینَ فَأَتَوْہُ بِہِمَا ، فَقَالَ لأَحَدِہِمَا : أَتَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللہِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَقَالَ : أَتَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللہِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : أَتَشْہَدُ أَنِّی رَسُولُ اللہِ ؟ قَالَ : فَأَہْوَی إلَی أُذُنَیْہِ ، فَقَالَ : إنِّی أَصَمُّ ، قَالَ : مَا لَکَ إذَا قُلْتُ لَکَ : تَشْہَدُ أَنِّی رَسُولُ اللہِ ، قُلْتُ إنِّی أَصَمُ ، فَأَمَرَ بِہِ فَقُتِلَ ، وَقَالَ لِلآخَرِ : أَتَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللہِ ، قَالَ : نَعَمْ ، فَقَالَ : أَتَشْہَدُ أَنِّی رَسُولُ اللہِ ، قَالَ : نَعَمْ ، فَأَرْسَلَہُ ، فَأَتَی النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ : ہَلَکْت ، قَالَ : وَمَا شَأْنُک فَأَخْبَرُوہُ بِقِصَّتِہِ وَقِصَّۃِ صَاحِبِہِ ، فَقَالَ : أَمَّا صَاحِبُک فَمَضَی عَلَی إیمَانِہِ ، وَأَمَّا أَنْتَ فَأَخَذْتَ بِالرُّخْصَۃِ۔
(٣٣٧٠٨) حضرت حسن بصری (رض) فرماتے ہیں کہ مسیلمہ کذاب کے جاسوسوں نے مسلمانوں کے دو آدمیوں کو پکڑ لیا اور وہ ان دونوں کو مسیلمہ کذاب کے پاس لے گئے۔ اس نے ان دونوں میں سے ایک کو کہا : کیا تو گواہی دیتا ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں ؟ اس نے کہا : جی ہاں ! اس نے پھر پوچھا : کیا تو گواہی دیتا ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں ؟ اس نے کہا : جی ہاں ! اس نے پوچھا : کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟ ان صحابی نے اپنے کانوں کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا کہ میں تو بہرا ہوں۔ مسیلمہ کذاب نے کہا : تجھے کیا مصیبت ہے جب میں تجھ سے پوچھتا ہوں کہ تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں تو تو کہتا ہے کہ میں بہرا ہوں ؟ پس اس نے حکم دیا اور ان صحابی کو قتل کردیا گیا۔ مسیلمہ کذاب نے دوسرے شخص سے کہا : کیا تو گواہی دیتا ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں ؟ اس نے کہا : جی ہاں ! اس نے پھر پوچھا : کہ کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟ اس نے کہا : جی ہاں ! پس اس نے اس ان کو چھوڑ دیا : یہ شخص نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آیا اور فرمایا : اے اللہ کے رسول 5! میں ہلاک ہوگیا ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کیا ہوا ؟ انھوں نے اپنا اور اپنے ساتھی کا واقعہ بیان کیا، تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بہرحال تیرا ساتھی تو ایمان کی حالت میں مرا ، اور رہے تم تو تم نے رخصت پر عمل کیا۔