(۳۳۹۲۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا عِکْرِمَۃُ بْنُ عَمَّارٍ ، عَنْ إِیَاسِ بْنِ سَلَمَۃَ بْنِ الأَکْوَعِ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : غَزَوْنَا مَعَ أَبِی بَکْرٍ ہَوَازِنَ عَلَی عَہْدِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَنَفَّلَنِی جَارِیَۃً مِنْ بَنِی فَزَارَۃَ ، مِنْ أَجْمَلِ الْعَرَبِ ، عَلَیْہَا قَِشْعٌ لَہَا ، فَمَا کَشَفْتُ لَہَا عَنْ ثَوْبٍ حَتَّی قَدِمْتُ الْمَدِینَۃَ ، فَلَقِیَنَا النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ بِالسُّوقِ ، فَقَالَ : لِلَّہِ أَبُوکَ ، ہَبْہَا لِی ، فَوَہَبْتُہَا لَہُ ، قَالَ : فَبَعَثَ بِہَا ، فَفَادَی بِہَا أُسَارَی مِنَ الْمُسْلِمِینَ کَانُوا بِمَکَّۃَ۔
(٣٣٩٢١) حضرت سلمہ بن اکوع (رض) فرماتے ہیں کہ ہم حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں حضرت صدیق اکبر (رض) کے ساتھ ھوازن کے علاقہ میں جہاد کیلئے گئے، مجھے بنی فزارہ کی لونڈی حصہ میں ملی، جو کہ حسین عرب خاتون تھیں، اس پر موٹا زائد لباس تھا، جب اس کے زائد کپڑے کھلے تو میں اس کو لے کر مدینہ آیا، بازار میں حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہم سے ملاقات ہوئی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تمہارے والد کی خوبی اللہ کیلئے ہی ہے، اس کو مجھے ھبہ کہ دو ، حضرت سلمہ فرماتے ہیں کہ میں نے آپ کو ھبہ کردی، راوی (رض) فرماتے ہیں کہ : آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہ باندی مکہ میں جو مسلمان تھے ان کے فدیہ کے واسطے بھیج دی۔