(۳۳۹۳) حَدَّثَنَا شَبَابَۃُ ، قَالَ : حدَّثَنَا قَیْسٌ ، عَنْ زِیَادِ بْنِ عِلاَقَۃَ ، عَنْ عُمَارَۃَ بْنِ أَوْسٍ ، قَالَ : کُنَّا نُصَلِّی إلَی بَیْتِ الْمَقْدِسِ إذْ أَتَانَا آتٍ وَإِمَامُنَا رَاکِعٌ ، وَنَحْنُ رُکُوعٌ ، فَقَالَ : إنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ أُنْزِلَ عَلَیْہِ قُرْآنٌ ، وَقَدْ أُمِرَ أَنْ یَسْتَقْبِلَ الْکَعْبَۃَ أَلاَ فَاسْتَقْبِلُوہَا ، قَالَ : فَانْحَرَفَ إمَامُنَا وَہُوَ رَاکِعٌ ، وَانْحَرَفَ الْقَوْمُ حَتَّی اسْتَقْبَلُوا الْکَعْبَۃَ ، فَصَلَّیْنَا بَعْضَ تِلْکَ الصَّلاَۃِ إلَی بَیْتِ الْمَقْدِسِ ، وَبَعْضَہَا إلَی الْکَعْبَۃِ۔
(ابو یعلی ۱۵۰۹۔ ابن سعد ۲۴۳)
(٣٣٩٣) حضرت عمارہ بن اوس کہتے ہیں کہ ہم بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھا کرتے تھے کہ ایک قاصد آیا جبکہ ہمارا امام بھی رکوع میں تھا اور ہم بھی حالت رکوع میں تھے۔ اس نے کہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قرآن نازل ہوا ہے اور حکم دیا گیا ہے کہ خانہ کعبہ کی طرف رخ کرلو اب تم بھی خانہ کعبہ کی طرف رخ کرلو۔ ہمارے امام نے حالت رکوع میں ہی خانہ کعبہ کی طرف رخ کرلیا اور سب لوگوں نے بھی خانہ کعبہ کی طرف رخ کرلیا۔ پس ہم نے اس نماز کا کچھ حصہ بیت المقدس کی طرف رخ کرکے ادا کیا اور کچھ حصہ خانہ کعبہ کی طرف رخ کرکے۔