(۳۳۹۸۶) حَدَّثَنَا حُمَیْدٌ ، عَنْ حَسَنِ بْنِ صَالِحٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَطَائَ بْنَ السَّائِبِ عَنْ قَوْلِ اللہِ: {وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَیْئٍ فَأَنَّ لِلَّہِ خُمُسَہُ} ، وَعَنْ ہَذِہِ الآیَۃِ : {مَا أَفَائَ اللَّہُ عَلَی رَسُولِہِ} ؟ قَالَ : قُلْتُ : مَا الْفَیْئُ ؟ وَمَا الْغَنِیمَۃُ ؟ قَالَ : إِذَا ظَہَرَ الْمُسْلِمُونَ عَلَی الْمُشْرِکِینَ وَعَلَی أَرْضِہِمْ ، فَأَخَذُوہُمْ عَنْوَۃً ، فَمَا أُخِذَ مِنْ مَالٍ ظَہَرُوا عَلَیْہِ فَہُوَ غَنِیمَۃٌ ، وَأَمَّا الأَرْضُ فَہِیَ فَیْئٌ ، وَسَوَادُنَا ہَذَا فَیْئٌ۔
(٣٣٩٨٦) حضرت حسن بن صالح فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء بن السائب سے اللہ کے ارشاد { وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَیْئٍ فَأَنَّ لِلَّہِ خُمُسَہُ } اور دوسری آیت { مَا أَفَائَ اللَّہُ عَلَی رَسُولِہِ } کے متعلق دریافت کیا کہ فیٔ اور غنیمت سے کیا مراد ہے ؟ حضرت عطاء نے فرمایا : جب مسلمان مشرکین اور ان کی زمینوں پر بزور جنگ غالب ہوجائیں اور اس وقت جو مال ہاتھ آئے وہ غنیمت ہے، اور ان کی زمین فیٔ ہے اور یہ ہمارا مال و دولت فیٔ ہے۔