(۳۴۰۱۱) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ عَیَّاشٍ ، عَنْ أُسَید بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْخَثْعَمِیِّ ، عَنْ مُقْبِلِ بْنِ عبْدِ اللہِ ، عَنْ ہَانِئِ بْنِ کُلْثُومٍ الْکِنَانِیِّ ، قَالَ : کُنْتُ صَاحِبَ الْجَیْشِ الَّذِی فَتَحَ الشَّامَ ، فَکَتَبْتُ إِلَی عُمَرَ : إِنَّا فَتَحْنَا أَرْضًا کَثِیرَۃَ الطَّعَامِ وَالْعَلَفِ ، فَکَرِہْتُ أَنْ أَتَقَدَّمَ إِلَی شَیْئٍ مِنْ ذَلِکَ إِلاَّ بِأَمْرِکَ وَإِذْنِکَ ، فَاکْتُبْ إِلَیَّ بِأَمْرِکَ فِی ذَلِکَ ، فَکَتَبَ إِلَیَّ عُمَرُ : أَنْ دَعَ النَّاسَ یَأْکُلُونَ وَیَعْلِفُونَ ، فَمَنْ بَاعَ شَیْئًا بِذَہَبٍ ، أَوْ فِضَّۃٍ فَقَدْ وَجَبَ فِیہِ خُمُسُ اللہِ وَسِہَامُ الْمُسْلِمِینَ۔
(٣٤٠١١) حضرت ھانی بن کلثوم الکنانی فرماتے ہیں کہ جس لشکر نے ملک شام فتح کیا میں اس لشکر کا امیر تھا، میں نے حضرت عمر (رض) کو لکھ کر بھیجا کہ ہم نے ایک ملک فتح کیا ہے اس میں کھانے پینے اور چارہ کی کثرت ہے، میں اس بات کو ناپسند کرتا ہوں کہ آپ کی اجازت اور حکم کے بغیر کسی چیز کی طرف پہل کروں، تو آپ اپنی رائے لکھ کر ہمیں آگاہ کردیں، حضرت عمر (رض) نے مجھے لکھ کر ارسال کیا کہ لوگوں کو اجازت دے دو کہ وہ کھائیں اور جانوروں کو چارہ کھلائیں، اور جو شخص سونے یا چاندی کے بدلے کچھ فروخت کرے تو اس پر خمس اور مسلمانوں کا حصہ بھی ہے۔