(۳۴۰۱۲) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ عَیَّاشٍ ، عَنْ أُسَیْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ دُرَیْکِ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مُحَیْرِیزٍ ، قَالَ : سُئِلَ فَضَالَۃُ بْنُ عُبَیْدٍ صَاحِبُ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ بَیْعِ الطَّعَامِ وَالْعَلَفِ فِی أَرْضِ الرُّومِ ؟ فَقَالَ فَضَالَۃَ : إِنَّ أَقْوَامًا یُرِیدُونَ أَنْ یَسْتَزِلُّونِی عَنْ دِینِی ، وَاللہِ إِنِّی لأَرْجُوَ أَنْ لاَ یَکُونَ ذَلِکَ حَتَّی أَلْقَی مُحَمَّدًا صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَنْ بَاعَ طَعَامًا بِذَہَبٍ ، أَوْ فِضَّۃٍ فَقَدْ وَجَبَ فِیہِ خُمُسُ اللہِ وَسِہَامُ الْمُسْلِمِینَ۔
(٣٤٠١٢) حضرت فضالہ بن عبید (رض) جو کہ صحابی رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں ان سے روم کی زمین پر موجود دشمن کے کھانے اور چارہ کے متعلق دریافت کیا گیا ؟ حضرت فضالہ نے فرمایا : بیشک یہ لوگ ہمیں ہمارے دین سے ہٹانا چاہتے تھے، اور خدا کی قسم میں امید کرتا ہوں اس طرح نہیں ہوگا یہاں تک کہ ہم شہید ہو کر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملاقات کرلیں، جو شخص کھانے کو سونے یا چاندی کے بدلے فروخت کرے تو اس میں خمس واجب ہے اور مسلمانوں کا حصہ بھی ضروری ہے۔