(۳۴۰۸۴) حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ حُمَیْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : حاصَرْنَا تُسْتَرَ ، فَنَزَلَ الْہُرْمُزَانُ عَلَی حُکْمِ عُمَرَ ، فَبَعَثَ بِہِ أَبُو مُوسَی مَعِیَ ، فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَی عُمَرَ سَکَتَ الْہُرْمُزَانُ فَلَمْ یَتَکَلَّمْ ، فَقَالَ عُمَرُ : تَکَلَّمْ ، فَقَالَ : کَلاَمُ حَیٍّ ، أَوْ کَلاَمُ مَیِّتٍ ؟ قَالَ : فَتَکَلَّمْ فَلاَ بَأْسَ ، فَقَالَ : إِنَّا وَإِیَّاکُمْ مَعْشَرَ الْعَرَبِ مَا خَلَّی اللَّہُ بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمْ ، کُنَّا نَقْتُلُکُمْ وَنُقْصِیکُمْ ، فَأَمَا إِذْ کَانَ اللَّہُ مَعَکُمْ لَمْ یَکُنْ لَنَا بِکُمْ یَدَانِ۔
قَالَ : فَقَالَ عُمَرُ : مَا تَقُولُ یَا أَنَسُ ؟ قَالَ : قُلْتُ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، تَرَکْتُ خَلْفِی شَوْکَۃً شَدِیدَۃً ، وَعَدَدًا کَثِیرًا ، إِنْ قَتَلْتُہُ أَیِسَ الْقَوْمُ مِنَ الْحَیَاۃِ ، وَکَانَ أَشَدَّ لِشَوْکَتِہِمْ ، وَإِنِ اسْتَحْیَیْتہ طَمِعَ الْقَوْمُ۔
فَقَالَ : یَا أَنَسُ ، أَسْتَحْیِی قَاتِلَ الْبَرَائِ بْنِ مَالِکٍ ، وَمَجْزَأَۃ بْنِ ثَوْرٍ ؟ فَلَمَّا خَشِیتُ أَنْ یَبْسُطَ عَلَیْہِ ،قُلْتُ لَہُ : لَیْسَ لَکَ إِلَی قَتْلِہِ سَبِیلٌ ، فَقَالَ عُمَرُ : لِمَ ؟ أَعْطَاک ؟ أَصَبْتَ مِنْہُ ؟ قُلْتُ : مَا فَعَلْتُ، وَلَکِنَّک قُلْتَ لَہُ : تَکَلَّمْ فَلاَ بَأْسَ ، فَقَالَ : لَتَجِیئَنَّ بِمَنْ یَشْہَدُ مَعَکَ ، أَوْ لأَبْدَأَن بِعُقُوبَتِکَ ، قَالَ : فَخَرَجْتُ مِنْ عِنْدِہِ ، فَإِذَا بِالزُّبَیْرِ بْنِ الْعَوَّامِ قَدْ حَفِظَ مَا حَفِظْتُ ، فَشَہِدَ عِنْدَہُ فَتَرَکَہُ ، وَأَسْلَمَ الْہُرْمُزَانُ ، وَفُرِضَ لَہُ۔
(٣٤٠٨٤) حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ جب ہم نے تستر کا محاصرہ کیا تو حضرت عمر (رض) کے حکم پر ہرمزان اتر کر آیا اور گرفتاری دے دی حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) نے اس کو میرے ساتھ بھیجا، جب ہم حضرت عمر (رض) کے پاس آئے تو ہرمزان خاموش ہوگیا اور کچھ نہ بولا حضرت عمر (رض) نے فرمایا بولو، اس نے کہا زندوں والا یا مردوں والا کلام ؟ حضرت عمر (رض) نے فرمایا بولو کوئی حرج نہیں ہے ھرمزان نے کہا : اے قوم عرب ، ہمارے اور تمہارے درمیان اللہ نے کچھ نہیں چھوڑا جیسا کہ ہم تم سے لڑتے ہیں اور تم کو قتل کرتے ہیں، بہرحال اگر اللہ پاک تمہارے ساتھ ہوتے تو ہمیں تم سے لڑنے پر قدرت نہ ہوتی۔
حضرت عمر (رض) نے فرمایا اے انس (رض) آپ کی کیا رائے ہے ؟ حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اے امیرالمومنین (رض) میں نے اپنے پیچھے بہت شوکت اور کثیر تعداد چھوڑی ہے، اگر آپ نے اس کو قتل کردیا تو قوم زندگی سے مایوس ہوجائے گی اور وہ ان کی شوکت کیلئے زیادہ سخت تھا، اور اگر اس کو زندہ رکھا تو قوم کو لالچ ہوگی۔
حضرت عمر (رض) نے فرمایا اے انس (رض) ! تجھے حضرت براء بن مالک (رض) اور حضرت مجزاۃ بن ثور کے قاتل کو مارنے سے حیاء آرہی ہے ؟ حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ جب مجھے اندیشہ ہوا کہ حضرت عمر (رض) اس کو قتل کردیں گے، میں نے ان سے عرض کیا : آپ کیلئے اس کے قتل پر شرعی راستہ نہیں ہے، حضرت عمر (رض) نے فرمایا کیوں ؟ کیا آپ نے اس کو امان دی ہے ؟ کیا آپ نے اس سے کچھ لیا ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ میں نے کچھ نہیں لیا، لیکن آپ نے خود اس سے فرمایا تھا بول تجھ پر کوئی حرج نہیں ہے، حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا، تم ضرور کسی شخص کو لے کر آؤ جو تمہارے ساتھ گواہی دے، وگرنہ تمہیں سزا ملے گی، حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ جب میں ان کے پاس سے نکلا تو اچانک حضرت زبیر (رض) بن العوام ملے انھوں نے بھی وہی یاد کرلیا تھا جو میں نے یاد کیا تھا انھوں نے حضرت عمر (رض) کے سامنے گواہی دی، تو آپ (رض) نے اس کو چھوڑ دیا، ہرمزان مسلمان ہوگیا، اور اس کیلئے حصہ مقرر کردیا گیا۔