(۳۴۰۸۳) حَدَّثَنَا رَیْحَانُ بْنُ سَعِیدٍ ، قَالَ : حدَّثَنِی مَرْزُوقُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : حَدَّثَنِی أَبُو فَرْقَدٍ ، قَالَ : کُنَّا مَعَ أَبِی مُوسَی الأَشْعَرِیِّ یَوْمَ فَتَحْنَا سُوقَ الأَہْوَازِ ، فَسَعَی رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِکِینَ ، وَسَعَی رَجُلاَنِ مِنَ الْمُسْلِمِینَ خَلْفَہُ ، فَبَیْنَمَا ہُوَ یَسْعَی وَیَسْعَیَانِ إِذْ قَالَ لَہُ أَحَدُہُمَا : مَتَّرَس ، فَقَامَ الرَّجُل : فَأَخَذَاہُ فَجَائَا بِہِ ، وَأَبُو مُوسَی یَضْرِبُ أَعْنَاقَ الأُسَارَی ، حَتَّی انْتَہَی الأَمْرُ إِلَی الرَّجُلِ ، فَقَالَ أَحَدُہُمَا : إِنَّ ہَذَا قَدْ جُعِلَ لَہُ الأَمَانُ ، فَقَالَ أَبُو مُوسَی : وَکَیْفَ جُعِلَ لَہُ الأَمَانُ ؟ قَالَ : إِنَّہُ کَانَ یَسْعَی ذَاہِبًا فِی الأَرْضِ ، فَقُلْتُ لَہُ : مَتَّرَس ، فَقَامَ ، فَقَالَ أَبُو مُوسَی : وَمَا مَتَّرَس ؟ قَالَ : لاَ تَخَفْ ، قَالَ : ہَذَا أَمَانٌ ، خَلَّیَا سَبِیلَہُ ، فَخَلَّینَا سَبِیلَ الرَّجُلِ۔
(٣٤٠٨٣) حضرت ابو فرقد (رض) فرماتے ہیں کہ جب ہم نے سوق الاھواز کو فتح کیا تو میں حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) کے ساتھ تھا، مشرکین میں سے ایک شخص بھاگا، مسلمانوں میں سے بھی دو اس کے پیچھے بھاگے، اس دوران کہ جب وہ بھاگ رہے تھے، ان میں سے ایک نے اس مشرک کو کہہ دیا، مترس (امان) وہ شخص یہ سن کر کھڑا ہوگیا، انھوں نے اس کو پکڑا حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) کے پاس اس حالت میں لے کر حاضر ہوئے کہ آپ قیدیوں کو قتل فرما رہے تھے، جب اس شخص کی باری آئی ان دو میں سے ایک نے کہا اس کیلئے امان ہے حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) نے دریافت فرمایا : اس کو امان کیسے ملی ؟ اس نے کہا کہ یہ بھاگ رہا تھا میں نے اس کو مترس کہا تو یہ کھڑا ہوگیا، حضرت ابو موسیٰ (رض) نے دریافت کیا کہ مترس کا کیا مطلب ہے ؟ اس نے کہا : اس کا مطلب ہے مت ڈرو آپ نے فرمایا یہ امان ہے، اس کا راستہ چھوڑ دو ، پھر ہم نے اس کو چھوڑ دیا۔