(۳۴۰۹۰) حَدَّثَنَا وَکِیعُ بْنُ الْجَرَّاحِ ، قَالَ : حدَّثَنَا شُعْبَۃُ ، عَنْ أَبِی الْفَیْضِ ، عَنْ سُلَیْمِ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : کَانَ بَیْنَ مُعَاوِیَۃَ وَبَیْنَ قَوْمٍ مِنَ الرُّومِ عَہْدٌ ، فَخَرَجَ مُعَاوِیَۃُ یَسِیرُ فِی أَرْضِہِمْ کَیْ یَنْقَضُّوا فَیُغِیرَ عَلَیْہِمْ ، فَإِذَا رَجُلٌ یُنَادِی فِی نَاحِیَۃِ الْعَسْکَرِ : وَفَائٌ لاَ غَدْرٌ ، وَفَائٌ لاَ غَدْرٌ ، فَإِذَا ہُوَ عَمْرُو بْنُ عَبسَۃَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، یَقُولُ : مَنْ کَانَ بَیْنَہُ وَبَیْنَ قَوْمٍ عَہْدٌ فَلاَ یَشدَّ عَقْدَۃ وَلاَ یَحُلَّہَا ، حَتَّی یَمْضِیَ أَمَدُہَا ، أَوْ یَنْبِذَ إِلَیْہِمْ عَلَی سَوَائٍ۔ (ابوداؤد ۲۷۵۳۔ ترمذی ۱۵۸۰)
(٣٤٠٩٠) حضرت سلیم سے مروی ہے کہ حضرت معاویہ اور رومیوں کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ تھا، حضرت معاویہ (رض) نے ان کے علاقہ کی طرف پیش قدمی کی تاکہ جب معاہدہ کی مدت ختم ہو تو ان پر اچانک حملہ کردیں، اچانک لشکر کے ایک طرف سے ایک شخص یہ کہتا ہوا آیا کہ وفاء لا غدر، عہد کو پورا کرو دھوکا مت دو ، وہ حضرت عمرو بن عبسہ تھے، انھوں نے فرمایا میں نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا کہ : جس کا کسی قوم کے ساتھ معاہدہ ہو تو وہ اس کی گرہ کو نہ باندھے اور نہ ہی کھولے، یہاں تک کہ مدت مقررہ پوری ہو کر گزر جائے یا ان کا عہد برابری کے طور پر ان کی طرف پھینک کر ختم کردو۔