(۳۴۱۳۴) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا ہَاشِمُ بْنُ بَرِیدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِی حُسَیْنُ بْنُ مَیْمُونٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلِیًّا ، یَقُولُ : قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، إِنْ رَأَیْتَ أَنْ تُوَلِیَنِی حَقَّنَا مِنَ الْخُمُسِ فِی کِتَابِ اللہِ فَاقْسِمْہُ حَیَاتَکَ ، کَیْ لاَ یُنَازِعْنِیہِ أَحَدٌ بَعْدَکَ ، قَالَ : فَفَعَلَ ذَلِکَ ، قَالَ : فَوَلاَّنِیہِ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَسَمْتُہُ حَیَاۃَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ وَلاَّنِیہِ أَبُو بَکْرٍ فَقَسَمْتُہُ حَیَاۃَ أَبِی بَکْرٍ ، ثُمَّ وَلاَّنِیہِ عُمَرُ فَقَسَمْتُہُ حَیَاۃَ عُمَرَ۔
حَتَّی کَانَتْ آخِرُ سَنَۃٍ مِنْ سِنِی عُمَرَ ، فَإِنَّہُ أَتَاہُ مَالٌ کَثِیرٌ فَعَزَلَ حَقَّنَا ، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَیَّ ، فَقَالَ : ہَذَا حَقُّکُمْ فَخُذْہُ فَاقْسِمْہُ حَیْثُ کُنْتَ تَقْسِمُہُ ، فَقُلْتُ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، بِنَا عَنْہُ الْعَامَ غِنًی ، وَبِالْمُسْلِمِینَ إِلَیْہِ حَاجَۃٌ ، فَرُدَّہُ عَلَیْہِ تِلْکَ السَّنَۃَ ، ثُمَّ لَمْ یَدْعُنَا إِلَیْہِ أَحَدٌ بَعْدَ عُمَرَ ، حَتَّی قُمْتُ مَقَامِی ہَذَا ، فَلَقِیتُ الْعَبَّاسَ بَعْدَ مَا خَرَجْت مِنْ عِنْدِ عُمَرَ ، فَقَالَ : یَا عَلِیّ ، لَقَدْ حَرَمْتنَا الْغَدَاۃَ شَیْئًا لاَ یُرَدَّ عَلَیْنَا أَبَدًا إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ ، وَکَانَ رَجُلاً دَاہِیًا۔ (ابوداؤد ۲۹۷۶۔ ابویعلی ۳۵۹)
(٣٤١٣٤) حضرت علی (رض) ارشاد فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! اگر آپ مناسب سمجھیں تو کتاب اللہ کے خمس میں سے جو ہمارا حصہ ہے اس کا مجھے ولی بنادیں تاکہ میں آپ کی زندگی میں ہی اس کو تقسیم کر دوں، تاکہ آپ کے بعد کوئی مجھ سے جھگڑا نہ کرے، فرماتے ہیں کہ انھوں نے اس طرح کیا آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے اس کا ولی بنادیا۔ میں نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی میں ہی اس کو تقسیم کردیا، پھر حضرت ابوبکر صدیق نے مجھے ولی بنایا تو میں نے حضرت ابوبکر صدیق (رض) کی زندگی میں ہی اس کو تقسیم کردیا۔ پھر حضرت عمر (رض) نے مجھے ولی بنایا تو میں نے حضرت عمر (رض) کی زندگی میں اس کو تقسیم کردیا۔ یہاں تک کہ حضرت عمر (رض) کے دور خلافت کا آخری سال آگیا، ان کے پاس بہت زیادہ مال آیا انھوں نے ہمارا حق الگ کر کے میری طرف ارسال کردیا اور فرمایا یہ تمہارا حق ہے یہ لے لو اور جہاں تقسیم کرنا چاہو تقسیم کرلو میں نے عرض کیا اے امیرالمومنین (رض) ہم اس سے مستغنی ہیں جب کہ مسلمانوں کو اس کی زیادہ ضرورت ہے، پس اس سال ان کو وہ واپس کردیا پھر حضرت عمر (رض) کے بعد کسی نے ہمیں اس کی طرف نہیں بلایا یہاں تک کہ میں اس مقام پر کھڑا ہوں، حضرت عمر (رض) کے پاس سے نکلنے کے بعد میری حضرت عباس (رض) سے ملاقات ہوئی انھوں نے فرمایا : اے علی (رض) آپ نے صبح ہمیں ایک چیز سے (حق سے) محروم کردیا اب قیامت تک ہمیں نہیں دیا جائے گا۔ اور حضرت عباس (رض) عمدہ رائے والے شخص تھے۔