(۳۴۱۳۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ قَیْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَنَفِیَّۃِ ، قَالَ : اخْتَلَفَ النَّاسُ بَعْدَ وَفَاۃِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی ہَذَیْنِ السَّہْمَیْنِ ؛ سَہْمِ الرَّسُولِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَسَہْمِ ذَوِی الْقُرْبَی ، فَقَالَتْ طَائِفَۃٌ : سَہْمُ الرَّسُولِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِلْخَلِیفَۃِ مِنْ بَعْدِہِ ، وَقَالَتْ طَائِفَۃٌ : سَہْمُ ذَوِی الْقُرْبَی لِقَرَابَۃِ الْخَلِیفَۃِ ، فَأَجْمَعُوا عَلَی أَنْ یَجْعَلُوا ہَذَیْنِ السَّہْمَیْنِ فِی الْکُرَاعِ ، وَفِی الْعُدَّۃِ فِی سَبِیلِ اللہِ۔
(٣٤١٣٦) حضرت حسن بن محمد ابن الحنفیہ (رض) سے مروی ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بعد دو حصوں سے متعلق لوگوں میں اختلاف ہوگیا، ایک اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حصہ اور ایک ذوی القربیٰ کے حصہ کے بارے میں ایک جماعت نے کہا : اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حصہ آپ کے بعد آپ کے خلیفہ کیلئے ہے اور دوسری جماعت نے کہا کہ ذوی القربیٰ کا حصہ خلیفہ کے رشتہ داروں کیلئے ہے، پھر سب حضرات نے اس پر اتفاق کرلیا کہ وہ ان دونوں حصوں کو گھوڑوں میں اور جہاد کی تیاری کیلئے خرچ کریں گے۔