(۳۴۱۴۱) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، أُبَایِعُک عَلَی الْجِہَادِ ، فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ہَلْ لَکَ وَالِدٌ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : انْطَلِقْ فَجَاہِدْہُ ، فَإِنَّ فِیہِ مُجَاہَدًا حَسَنًا۔ (ابن حبان ۴۱۹)
(٣٤١٤١) حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) سے مروی ہے ایک شخص نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا اے اللہ کے رسول ! میں جہاد پر آپ کی بیعت کرتا ہوں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے فرمایا : کیا آپ کے والد حیات ہیں ؟ اس نے عرض کیا جی ہاں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : واپس چلے جاؤ اور ان کی خدمت کر کے جہاد کرو بیشک ان میں آپ کیلئے خدمت کر کے نیکی کمانے کا موقع ہے۔