(۳۴۱۴۸) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَۃَ ، عَنْ سَالِمٍ ، أَوْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُتْبَۃَ ؛ أَرَادَ مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَۃَ الْغَزْوَ، فَأَتَتْ أُمُّہُ عُمَرَ ، فَأَمَرَہُ أَنْ یُقِیمَ ، فَلَمَّا وُلِّیَ عُثْمَانُ أَرَادَ الْغَزْوَ ، فَأَتَتْ أُمُّہُ عُثْمَانَ ، فَأَمَرَہُ أَنْ یُقِیمَ ، فَقَالَ : إِنَّ عُمَرَ لَمْ یُجْبِرْنِی ، أَوَ یَعْزِم عَلَیَّ ، فَقَالَ : لَکِنِّی أُجْبِرُک۔
(٣٤١٤٨) حضرت عبداللہ بن عتبہ (رض) سے مروی ہے کہ حضرت محمد بن طلحہ نے جہاد پر جانے کا ارادہ فرمایا تو ان کی والدہ حضرت عمر (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور شکایت کی تو انھوں نے ان کو رکنے کا حکم فرما دیا پھر جب حضرت عثمان (رض) خلیفہ بنے تو انھوں نے پھر جہاد پر جانے کا ارادہ فرمایا تو ان کی والدہ حضرت عثمان (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور شکایت کی تو انھوں نے ان کو رکنے کا حکم فرما دیا اور فرمایا حضرت عمر (رض) نے مجھ پر جبر نہیں فرمایا تھا لیکن میں آپ پر جبر کروں گا۔