(۳۴۲۴۴) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سَعِیدُ بْنُ زَیْدٍ ، عَنِ الزُّبَیْرِ بْنِ خِرِّیتٍ ، عَنْ أَبِی لَبِیدٍ ، قَالَ : أُرْسِلَتِ الْخَیْلَُ ، وَالْحَکَمُ بْنُ أَیُّوبَ عَلَی الْبَصْرَۃِ ، قَالَ : فَخَرَجْنَا نَنْظُرُ إِلَیْہَا ، فَقُلْنَا : لَوْ مِلْنَا إِلَی أَنَسِ بْنِ مَالِکَ ، فَمِلْنَا إِلَیْہِ وَہُوَ فِی قَصْرِہِ بِالزَّاوِیَۃِ ، فَقُلْنَا لَہُ : یَا أَبَا حَمْزَۃَ ، أَکَانُوا یَتَرَاہَنُونَ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، وَاللہِ لَرَاہَنَ ، یَعْنِی رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی فَرَسٍ لَہُ ، یُقَالَ لَہُ : سَبْحَۃُ ، فَجَائَتْ سَابِقَۃً ، فَہَشَّ لِذَلِکَ۔ (احمد ۱۶۰۔ دارمی ۲۴۳۰)
(٣٤٢٤٤) حضرت ابو لبید (رض) فرماتے ہیں کہ میرے پاس گھوڑا بھیجا گیا درآنحالیکہ حضرت حکم بن ایوب بصرہ پر حاکم تھے، ہم باہر نکلے تاکہ اس کو دیکھ سکیں، ہم نے کہا کہ اگر ہم حضرت انس (رض) بن مالک کے پاس جاتے تو اچھا ہوتا پھر آپ کی طرف گئے وہ محل کے کونے میں تھے، ہم نے ان سے عرض کیا کہ اے ابو حمزہ (رض) ! کیا صحابہ کرام (رض) عہد نبوی میں گھوڑوں کی دوڑ میں مسابقہ کیا کرتے تھے ؟ انھوں نے کہا جی ہاں خدا کی قسم نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے گھوڑے پر ریس لگایا کرتے تھے جس کا نام سبحہ تھا پس ایک مرتبہ وہ سبقت لے گیا پھر اس کیلئے پتے توڑے گئے۔