(۳۴۲۶۶) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِی قَیْسُ بْنُ بَشِیرٍ التَّغْلِبِیُّ ، قَالَ : کَانَ أَبِی جَلِیسَ أَبِی الدَّرْدَائِ بِدِمَشْقَ ، وَکَانَ بِدِمَشْقَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، یُقَالَ لَہُ : ابْنُ الْحَنْظَلِیَّۃَ ، مِنَ الأَنْصَارِ ، فَمَرَّ بِنَا ذَاتَ یَوْمٍ وَنَحْنُ عِنْدَ أَبِی الدَّرْدَائِ ، فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَائِ : کَلِمَۃً تَنْفَعُنَا وَلاَ تَضُرُّک ، قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سَرِیَّۃً فَقَدِمَتْ ، فَأَتَی رَجُلٌ مِنْہُمْ فَجَلَسَ فِی الْمَجْلِسِ الَّذِی فِیہِ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لِرَجُلٍ إِلَی جَنْبِہِ : لَوْ رَأَیْتنَا حِینَ لَقِینَا الْعَدُوَّ ، حَمَلَ فُلاَنٌ فَطَعَنَ ، فَقَالَ : خُذْہَا وَأَنَا الْغُلاَمُ الْغِفَارِیُّ ، فَقَالَ : مَا أُرَاہُ إِلاَّ قَدْ أَبْطَلَ أَجْرَہُ ، فَقَالَ: مَا أَرَی بِذَلِکَ بَأْسًا ، قَالَ: فَتَنَازَعُوا فِی ذَلِکَ وَاخْتَلَفُوا حَتَّی سَمِعَ ذَلِکَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : سُبْحَانَ اللہِ ، لاَ بَأْسَ أَنْ یُؤْجَرَ وَیُحْمَدَ ، فَرَأَیْتُ أَبَا الدَّرْدَائِ سُرَّ بِذَلِکَ حَتَّی یَرْتَفِعَ ، حَتَّی أَرَی أَنَّہُ سَیَبْرُکُ عَلَی رُکْبَتَیْہِ ، وَیَقُولُ : أَنْتَ سَمِعْتُہُ مِنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ؟ فَیَقُولُ : نَعَمْ۔
(ابوداؤد ۴۰۸۶۔ احمد ۱۷۹)
(٣٤٢٦٦) حضرت قیس بن بشیر (رض) فرماتے ہیں کہ میرے والد دمشق میں حضرت ابو الدردائ (رض) کی مجلس میں بیٹھا کرتے تھے، دمشق میں ایک ابن الحنظلیہ نامی انصاری صحابی تھے، ایک دن جب میں حضرت ابو الدردائ (رض) کے پاس تھا تو وہ ہمارے پاس سے گزرے حضرت ابو الدردائ (رض) نے فرمایا : کوئی بات سنائیے جو ہمیں تو فائدہ دے لیکن آپ کو نقصان نہ دے انھوں نے فرمایا کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک سریہ جہاد کیلئے بھیجا جب وہ واپس آیا تو ان میں سے ایک شخص رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مجلس میں آ کر بیٹھ گیا اور کچھ دیر بعد اپنے ساتھ والے شخص سے کہا : اگر آپ وہ منظر دیکھ لیتے جب ہماری دشمن سے ملاقات ہوئی فلاں شخص نے یہ کہہ کر دشمن کو نیزہ مارا کہ یہ لو میں غفاری غلام ہوں، دوسرے شخص نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ اس نے اپنا اجر ضائع کردیا ہے، اور پہلے والے شخص نے کہا کہ میرے خیال میں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، ان کا اس معاملہ میں تنازعہ ہوگیا اور اختلاف ہوگیا تو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک بھی بات پہنچ گئی، آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : سبحان اللہ (بطور تعجب) کوئی حرج نہیں ہے کہ ان کو اجر دیا جائے گا اور اس کی تعریف کی جائے گی راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو الدردائ (رض) کو دیکھا کہ آپ اس کو سن کر بہت خوش ہوئے یہاں تک کہ آپ اوپر اٹھے اور قریب تھا کہ اپنے گھٹنوں کے بل بیٹھ جاتے اور دریافت کیا کہ کیا آپ (رض) نے خود رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ سنا ہے ؟ انھوں نے فرمایا ہاں میں نے خود سنا ہے۔