(۳۴۳۶۷) حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عَامِرٍ ؛ فِی رَجُلٍ سَیَّبَ دَابَّتَہُ ، فَأَخَذَہَا رَجُلٌ ، قَالَ : فَجَائَ صَاحِبُہَا فَخَاصَمَہُ إِلَی عَامِرٍ ، فَقَالَ : ہَذَا أَمْرٌ قَدْ قُضِیَ فِیہِ قَبْلَ الْیَوْمِ ، إِنْ کَانَ سَیَّبَہَا فِی خَوْفٍ ومَفَازَۃٍ فَہُوَ أَحَقُّ بِدَابَّتِہِ ، وَإِنْ کَانَ سَیَّبَہَا فِی کَلأ وَأَمْنٍ فَلاَ حَقَّ لَہُ فِیہَا۔
(٣٤٣٦٧) حضرت عامر (رض) سے مروی ہے کہ ایک شخص نے اپنا جانور آزاد چھوڑ دیا تو اس کو دوسرے آدمی نے پکڑ لیا، پھر اس کا مالک آیا اور حضرت عامر کے پاس جھگڑا لے کر حاضر ہوا۔ حضرت عامر نے فرمایا یہ ایسا معاملہ ہے جس کے متعلق آج کے دن سے قبل فیصلہ ہوچکا ہے اگر تو اس نے خوف وغیرہ کی وجہ سے اپنا جانور چھوڑا تھا تو پھر یہ اپنے جانور کا زیاد ہ حقدار ہے، اور اگر چارے کی وجہ سے چھوڑا ہے تو پھر اس میں اس کا کوئی حق نہیں ہے۔