(۳۴۴۱۱) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ہِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : کَانَ الزُّبَیْرُ یَتْبَعُ الْقَتْلَی یَوْمَ الْیَمَامَۃِ ، فَإِذَا رَأَی رَجُلاً بِہِ رَمَقٌ أَجْہَزَ عَلَیْہِ ، قَالَ : فَانْتَہَی إِلَی رَجُلٍ مُضْطَجِعٍ مَعَ الْقَتْلَی، فَأَہْوَی إِلَیْہِ بِالسَّیْفِ ، فَلَمَّا وَجَدَ مَسَّ السَّیْفِ وَثَبَ یَسْعَی ، وَسَعَی الزُّبَیْرُ خَلْفَہُ وَہُوَ یَقُولُ : أَنَا ابْنُ صَفِیَّۃَ الْمُہَاجِرِ ، قَالَ : فَالْتَفَتَ إِلَیْہِ الرجل ، فَقَالَ : کَیْفَ تَرَی شَدَّ أَخِیک الْکَافِرَ ؟ قَالَ : فَحَاصَرَہُ حَتَّی نَجَا۔
(٣٤٤١١) حضرت محمد فرماتے ہیں کہ حضرت زبیر (رض) جنگ یمامہ کے دن مقتولین کو تلاش کررہے تھے۔ جب وہ کسی آدمی کے پاس سے گزرتے ، اس کا معائنہ کرتے، اگر اس میں زندگی کی کچھ رمق باقی ہوتی تو اسے بھجوا دیتے۔ آپ ایک آدمی کے پاس پہنچے، جو مقتولین میں لیٹا ہوا تھا۔ آپ نے اسے تلوار لگائی تو وہ اٹھ کر بھاگ کھڑا ہوا۔ حضرت زبیر (رض) اس کے پیچھے بھاگے اور کہتے جاتے تھے کہ میں صفیہ کا مہاجر بیٹا ہوں۔ آدمی ان کی طرف متوجہ ہوا اور کہنے لگا کہ آپ اپنے کافر بھائی کے پکڑنے کو کیسا سمجھتے ہیں۔ پھر انھوں نے اس کو گھیرا لیکن وہ آدمی بھاگ گیا۔