hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 34409

.

ابن أبي شيبة

34409
Ibn Abi Shaybah
(۳۴۴۱۰) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، عَنْ ثُمَامَۃَ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : کُنْتُ بَیْنَ یَدَیْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِیدِ وَبَیْنِ الْبَرَائِ یَوْمَ الْیَمَامَۃِ ، قَالَ : فَبَعَثَ خَالِدٌ الْخَیْلَ ، فَجَاؤُوا مُنْہَزِمِینَ ، قَالَ : وَجَعَلَ الْبَرَائُ یُرْعَدُ ، فَجَعَلْتُ أَطِدُہُ إِلَی الأَرْضِ وَہُوَ یَقُولُ ، إِنِّی أَجِدُنِی أَفْطُرُ ، قَالَ : ثُمَّ بَعَثَ خَالِدٌ الْخَیْلَ فَجَاؤُوا مُنْہَزِمِینَ ، قَالَ : فَنَظَرَ خَالِدٌ إِلَی السَّمَائِ ، ثُمَّ بَلَدَ إِلَی الأَرْضِ ، وَکَانَ یَصْنَعُ ذَلِکَ إِذَا أَرَادَ الأَمْرَ ، ثُمَّ قَالَ : یَا بَرَائُ ، أَوحدْ فِی نَفْسِہِ ، قَالَ : فَقَالَ : الآنَ ؟ قَالَ : فَقَالَ : نَعَمَ الآنَ ، قَالَ : فَرَکِبَ الْبَرَائُ فَرَسَہُ ، فَجَعَلَ یَضْرِبُہَا بِالسَّوْطِ ، وَکَأَنِّی أَنْظُرُ إِلَیْہَا وَہِیَ تَمْصعُ بِذَنَبِہَا ، فَحَمِدَ اللَّہَ وَأَثْنَی عَلَیْہِ ، وَقَالَ : یَا أَہْلَ الْمَدِینَۃِ ، إِنَّہُ لاَ مَدِینَۃَ لَکُمْ ، وَإِنَّمَا ہُوَ اللَّہُ وَحْدَہُ وَالْجَنَّۃُ ، ثُمَّ حَمَلَ وَحَمَلَ النَّاسُ مَعَہُ ، فَانْہَزَمَ أَہْلُ الْیَمَامَۃِ ، حَتَّی أَتَی حِصْنَہُمْ ، فَلَقِیَہُ مُحَکِّمُ الْیَمَامَۃِ ، فقال : یَا بَرَائُ ، فَضَرَبَہُ بِالسَّیْفِ ، فَاتَّقَاہُ الْبَرَائُ بِالْحَجَفَۃِ ، فَأَصَابَ الْحَجَفَۃَ ، ثُمَّ ضَرَبَہُ الْبَرَائُ فَصَرَعَہُ ، فَأَخَذَ سَیْفَ مُحَکِّمِ الْیَمَامَۃِ فَضَرَبَہُ بِہِ حَتَّی انْقَطَعَ، فَقَالَ : قَبَّحَ اللَّہُ مَا بَقِیَ مِنْک ، وَرَمَی بِہِ وَعَادَ إِلَی سَیْفِہِ۔
(٣٤٤١٠) حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ میں جنگ یمامہ میں حضرت خالد بن ولید اور حضرت براء کے درمیان تھا۔ حضرت خالد نے ایک لشکر کو لڑائی کے لیے روانہ فرمایا تو وہ شکست کھاکر واپس آگیا۔ اس کے بعد حضرت براء پر لرزہ طاری ہوگیا اور میں نے انھیں سکون دینے کے لیے زمین کے ساتھ ملا دیا۔ وہ کہہ رہے تھے کہ میرا روزہ ٹوٹ گیا۔ پھر حضرت خالد نے ایک اور جماعت کو لڑائی کے لیے بھیجا وہ بھی شکست کھاکر واپس آگئی، حضرت خالد نے آسمان کی طرف نگاہ اٹھائی اور پھر زمین کی طرف دیر تک دیکھتے رہے۔ حضرت خالد جب کسی کام کا ارادہ کرتے تو یونہی کیا کرتے تھے۔ پھر انھوں نے فرمایا کہ اے برائ ! تم حملہ کرو۔ حضرت براء نے پوچھا ابھی ؟ انھوں نے فرمایا جی ہاں ابھی۔ چنانچہ حضرت براء اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے اور اسے کوڑے مارنے لگے۔ وہ منظر گویا میری آنکھوں کے سامنے ہے جب وہ گھوڑا اپنی دم کو ہلا رہا تھا۔ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی اور فرمایا کہ اے شہر والو ! تمہارا کوئی شہر نہیں ہے۔ وہ اللہ یکتا ہے اور اس کے پاس تمہارے لیے جنت ہے۔ پھر حضرت براء نے حملہ کیا اور ان کے ساتھ لوگوں نے بھی حملہ کیا اور اہل یمامہ کو شکست ہوگئی۔ پھر حضرت براء یمامہ والوں کے قلعے میں گئے اور یمامہ کے محکم سے سامنا ہوا۔ اس نے حضرت براء پر حملہ کیا۔ حضرت براء نے اس کے حملے کو ناکام بنا کر اس پر حملہ کیا اور اسے مار گرایا۔ پھر آپ نے یمامہ کے محکم کی تلوار پکڑی اور اس کا سر قلم کردیا۔ پھر آپ نے فرمایا کہ تجھ میں سے جو باقی رہا اللہ اسے نامراد کرے۔ پھر آپ نے اس کی تلوار کو پھینک دیا اور اپنی تلوار کو اٹھا لیا۔