(۳۴۴۱۷) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُجَالِدٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَامِرٌ ، قَالَ : کَتَبَ خَالِدٌ إِلَی مَرَازِبَۃِ فَارِسَ وَہُوَ بِالْحِیرَۃِ وَدَفَعَہُ إِلَی بَنِی بُقیلَۃَ ، قَالَ عَامِرٌ : وَأَنَا قَرَأْتُہُ عِنْدَ بَنِی بُقیلَۃَ :
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ
مِنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِیدِ إِلَی مَرَازِبَۃِ فَارِسَ ، سَلاَمٌ عَلَی مَنِ اتَّبَعَ الْہُدَی ، فَإِنِّی أَحْمَدُ إِلَیْکُمَ اللَّہَ الَّذِی لاَ إلَہَ إِلاَّ ہُوَ، أَمَّا بَعْدَ حَمْدِ اللہِ الَّذِی فَضَّ خَدَمَتَکُمْ ، وَفَرَّقَ کَلِمَتَکُمْ ، وَوَہَنَ بَأْسَکُمْ ، وَسَلَبَ مُلْکَکُمْ ، فَإِذَا جَائَکُمْ کِتَابِی ہَذَا فَابْعَثُوا إِلَیَّ بِالرَّہُنِ ، وَاعْتَقِدُوا مِنِّی الذِّمَّۃَ ، وَأَجِیبُوا إِلَیَّ الْجِزْیَۃَ، فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا، فَوَاللہِ الَّذِی لاَ إلَہَ إِلاَّ ہُوَ ، لأَسِیرَنَّ إِلَیْکُمْ بِقَوْمٍ یُحِبُّونَ الْمَوْتَ کَحُبِّکُمُ الْحَیَاۃَ ، وَالسَّلاَمُ عَلَی مَنِ اتَّبَعَ الْہُدَی۔
(ابوعبید ۸۶)
(٣٤٤١٧) حضرت عامر فرماتے ہیں کہ حضرت خالد بن ولید حیرہ میں تھے۔ انھوں نے وہاں سے فارس کے سرداروں کے نام خط لکھا، وہ خط انھوں نے بنو بقیلہ کو دیا اور میں نے ان کے پاس پڑھا تھا۔ اس خط میں تحریر تھا : بسم اللہ الرحمن الرحیم : خالد بن ولید کی طرف سے فارس کے سرداروں کے نام۔ ہدایت کا اتباع کرنے والوں پر سلامتی نازل ہو۔ میں اس اللہ کی حمد بیان کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے تمہاری قوتوں کو منتشر کردیا اور تمہارے دلوں کو جدا کردیا اور تمہاری قوت کو کمزور کردیا اور تمہارے مالوں کو چھین لیا۔ جب میرا یہ خط تمہارے پاس آئے تو تم میرے پاس جزیہ بھیجو، ہمارے پاس ذمی بن کر رہنا قبول کرلو۔ اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ میں تمہاری طرف ایک ایسی قوم کو بھیجوں گا جو موت کو ایسے پسند کرتے ہیں جیسے تم زندگی کو پسند کرتے ہو۔ اور ہدایت کی پیروی کرنے والوں پر سلامتی ہو۔