(۳۴۴۲۵) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ إِسْمَاعِیلَ ، عَنْ قَیْسٍ ، قَالَ : کَانَ أَبُو عُبَیْدِ بْنِ مَسْعُودٍ عَبَرَ الْفُرَاتَ إِلَی مِہْرَانَ ، فَقَطَعُوا الْجِسْرَ خَلْفَہُ ، فَقَتَلُوہُ ہُوَ وَأَصْحَابَہُ ، قَالَ : فَأَوْصَی إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ : فَرَثَاہُ أَبُو مِحْجَنٍ الثَّقَفِیُّ ، فَقَالَ :
أَمْسَی أَبُو جَبْرٍ خَلاَئَ بُیُوتُہُ
أَمْسَی أَبُو عَمْرٍو لَدَی الْجِسْرِ مِنْہُمْ
وَمَا زِلْتَ حَتَّی کُنْتَ آخِرَ رَائِحٍ
وَحَتَّی رَأَیْتُ مُہْرَتِی مُزْبَئِرَّۃ
بِمَا کَانَ یَغْشَاہُ الْجِیَاعُ الأَرَامِلُ
إلَی جَانِبِ الأَبْیَاتِ حزمٌ وَنَائِلُ
وَقُتِّلَ حَوْلِی الصَّالِحُونَ الأَمَاثِلُ
لَدَی الْفیلِ یَدْمَی نَحْرُہَا الشَّوَاکِلُ
(٣٤٤٢٥) حضرت قیس فرماتے ہیں کہ ابو عبید بن مسعود نے مہران کی طرف جانے کے لیے دریائے فرات کو عبور کیا، دشمنوں نے ان کے گذرنے کے بعد پل کو توڑ دیا اور انھیں اور ان کے ساتھیوں کو شہید کردیا۔ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے اس موقع پر ابو محجن کو ان کی یاد میں اشعار کہنے کا حکم دیا اور انھوں نے اشعار کہے جن کا ترجمہ یہ ہے :” ابوجبر کا گھر ویران ہوگیا اور وہاں بھوکی بیوائیں ہیں۔ پل کے پاس بنو عمرو کناروں پر بےسروسامان پڑے ہیں۔ میں زندہ بچ جانے والوں میں سے آخری ہوں اور میرے پاس نیک لوگوں کو شہید کیا گیا۔ میرے گھوڑے کا خون بہا اور ایسابہا کہ ہر خاص وعام راستے پر اس کا خون تھا “