(۳۴۴۲۶) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ إِسْمَاعِیلَ ، عَنْ قَیْسٍ ، قَالَ : عَبَرَ أَبُو عُبَیْدِ بْنُ مَسْعُودٍ یَوْمَ مِہْرَانَ فِی أُنَاسٍ ، فَقُطِعَ بِہِمَ الْجِسْرَ ، فَأُصِیبُوا ، قَالَ : قَالَ قَیْسٌ : فَلَمَّا کَانَ یَوْمُ مِہْرَانَ ، قَالَ أُنَاسٌ فِیہِمْ خَالِدُ بْنُ عُرْفُطَۃَ لِجَرِیرٍ : یَا جَرِیرُ ، لاَ وَاللہِ ، لاَ نَرِیمُ عَرْصَتِنَا ہَذِہِ ، فَقَالَ : اُعْبُرْ یَا جَرِیرُ بِنَا إِلَیْہِمْ ، فَقُلْتُ : أَتُرِیدُونَ أَنْ تَفْعَلُوا بِنَا مَا فَعَلُوا بِأَبِی عُبَیْدٍ ؟ إِنَّا قَوْمٌ لَسْنَا بسُبَّاحَ ، أَنْ نَبْرَحَ ، أَوْ أَنْ نَرِیمَ الْعَرْصَۃَ حَتَّی یَحْکُمَ اللَّہُ بَیْنَنَا وَبَیْنَہُمْ ، فَعَبَرَہُ الْمُشْرِکُونَ فَأُصِیبَ یَوْمَئِذٍ مِہْرَانُ وَہُوَ عِنْدَ النَّخِیلَۃِ۔
(٣٤٤٢٦) حضرت قیس فرماتے ہیں کہ حضرت ابو عبید بن مسعود مہران کی جنگ میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ تھے۔ ان کے گزرنے کے بعد پل کو کاٹ دیا گیا اور وہ شہید کردیئے گئے۔ حضرت قیس فرماتے ہیں کہ مہران کی جنگ میں کچھ لوگوں نے جن میں حضرت خالد بن عرفطہ بھی شامل تھے۔ حضرت جریر سے کہا کہ اے جریر ! ہم تو اپنی جگہ ہرگز نہیں چھوڑیں گے۔ انھوں نے کہا کہ اے جریر ! ہمیں یہ دریا عبور کرنا چاہیے۔ میں نے کہا کہ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ وہ ہمارے ساتھ بھی وہی کچھ کریں جو انھوں نے ابو عبید کے ساتھ کیا ہے۔ ہم ایک ایسی قوم ہیں جو تیراکی نہیں جانتی۔ ہم اپنا علاقہ اس وقت تک نہیں چھوڑیں گے جب تک اللہ تعالیٰ ہمارے اور ان کے درمیان کوئی فیصلہ نہ فرمادے۔ پس مشرکین نے اسے عبور کیا اور اس دن مہران مارا گیا اس وقت وہ نخیلہ نامی مقام میں تھا۔