(۳۴۴۴۸) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ، قَالَ: حدَّثَنَا حَنَشُ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِی یَذْکُرُ ، قَالَ: لَمَّا قَدِمْنَا مِنَ الْیَمَنِ نَزَلْنَا الْمَدِینَۃَ ، فَخَرَجَ عَلَیْنَا عُمَرُ ، فَطَافَ فِی النَّخْعِ وَنَظَرَ إِلَیْہِمْ ، فَقَالَ: یَا مَعْشَرَ النَّخْعِ ، إِنِّی أَرَی السَّرْو فِیکُمْ مُتَرَبِّعًا، فَعَلَیْکُمْ بِالْعِرَاقِ وَجُمُوعِ فَارِسَ، فَقُلْنَا: یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ، لاَ، بَلَ الشَّامُ نُرِیدُ الْہِجْرَۃَ إِلَیْہَا ، قَالَ : لاَ ، بَلَ الْعِرَاقُ ، فَإِنِّی قَدْ رَضِیتُہَا لَکُمْ ، قَالَ : حَتَّی قَالَ بَعْضُنَا : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، لاَ إِکْرَاہَ فِی الدِّینِ ، قَالَ : فَلاَ إِکْرَاہَ فِی الدِّینِ ، عَلَیْکُمْ بِالْعِرَاقِ ، قَالَ : فِیہَا جُوعُ الْعَجَمِ ، وَنَحْنُ أَلْفَانِ وَخَمْسُ مِئَۃٍ ، قَالَ : فَأَتَیْنَا الْقَادِسِیَّۃَ ، فَقُتِلَ مِنَ النَّخْعِ وَاحِد ، وَکَذَا وَکَذَا رَجُلاً مِنْ سَائِرِ النَّاسِ ثَمَانُونَ ، فَقَالَ عُمَرُ : مَا شَأْنُ النَّخْعِ ، أُصِیبُوا مِنْ بَیْنِ سَائِرِ النَّاسِ ؟ أَفَرَّ النَّاسُ عَنْہُمْ ؟ قَالُوا : لاَ ، بَلْ وَلُوا عُظْمَ الأَمْرِ وَحْدَہُمْ۔
(٣٤٤٤٨) حضرت حارث فرماتے ہیں کہ جب ہم یمن سے واپس آئے اور مدینہ منور ہ ٹھہرے تو حضرت عمر (رض) ہمارے پاس تشریف لائے۔ آپ نے قبیلہ نخع والوں میں ایک چکر لگایا اور ان سے فرمایا کہ اے نخع والو ! میں تم میں عزت کو اترتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔ تم عراق یافارس چلے جاؤ۔ انھوں نے کہا کہ اے امیر المومنین ! ہم تو شام کی طرف ہجرت کرنا چاہتے ہیں۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ نہیں عراق ٹھیک ہے۔ میں تمہارے لیے عراق سے راضی ہوں۔ ہم میں سے بعض نے کہا کہ اے امیر المومنین ! دین میں سختی نہیں ہے۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ دین میں سختی نہیں ہے تمہارے لیے عراق ٹھیک ہے۔ اس میں عجم کی جماعتیں ہیں اور ہم صرف اڑھائی ہزار ہیں۔ پھر ہم قادسیہ آئے اور نخعی لوگوں میں سے صرف ایک آدمی شہید ہوا جبکہ باقی لوگوں میں سے اسی افراد مارے گئے۔ حضرت عمر کو معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا نخعی لوگوں نے کیا کیا کہ باقی لوگوں میں سے وہی شہید ہوئے، کیا لوگ انھیں چھوڑ کر بھاگ گئے تھے۔ لوگوں نے بتایا نہیں بلکہ وہ مشکل کاموں میں اپنی مرضی سے کودے تھے۔