(۳۴۴۴۹) حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِیسَ ، عَنْ حَنَشِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : مَرَّتِ النَّخْعُ بِعُمَرَ ، فَأَتَاہُمْ فَتَصَفَّحَہُمْ ، وَہُمْ أَلْفَانِ وَخَمْسُ مِئَۃٍ ، وَعَلَیْہِمْ رَجُلٌ ، یُقَالَ لَہُ : أَرْطَاۃُ ، فَقَالَ : إِنِّی لأَرَی السَّرْو فِیکُمْ مُتَرَبِّعًا ، سِیرُوا إِلَی إِخْوَانِکُمْ مِنْ أَہْلِ الْعِرَاقِ ، فَقَالُوا : لاَ ، بَلْ نَسِیرُ إِلَی الشَّامِ ، قَالَ : سِیرُوا إِلَی الْعِرَاقِ ، فَقَالُوا : لاَ إِکْرَاہَ فِی الدِّینِ ، فَقَالَ : سِیرُوا إِلَی الْعِرَاقِ ، فَلَمَّا قَدِمُوا الْعِرَاقَ جَعَلُوا یَحْبِسُونَ الْمہْرَ فَیَذْبَحُونَہُ ، فَکَتَبَ إِلَیْہِمْ : أَصْلِحُوا ، فَإِنَّ فِی الأَمْرِ مَعْقِلاً ، أَوْ نَفْسًا۔
(٣٤٤٤٩) حضرت حارث فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نخعی لوگوں کے پاس سے گزرے اور انھیں گنا تو وہ اڑھائی ہزار تھے۔ ان کے سربراہ کا نام ارطاۃ تھا۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ میں تم میں عزت کو اترتے ہوئے دیکھتا ہوں تم عراق میں اپنے بھائیوں کے پاس چلے جاؤ۔ انھوں نے کہا کہ نہیں ہم تو شام کی طرف جائیں گے۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ تم عرا ق کی طرف جاؤ۔ انھوں نے کہا کہ دین میں زبردستی نہیں ہے۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ تم عراق کی طرف جاؤ۔ پس وہ عراق کی طرف گئے تو انھوں نے وہاں گھوڑے کے بچے کو پکڑ کر ذبح کرنا شروع کردیا۔ حضرت عمر نے انھیں خط لکھا : تم درست ہو جاؤ۔ اس لیے کہ ایسے معاملہ میں جان اہم ہے۔