(۳۴۴۷۳) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عْن أَبِیہِ ، قَالَ : أُتِیَ عُمَرُ بِغَنَائِمَ مِنْ غَنَائِمِ جَلُولاَئَ ، فِیہَا ذَہَبٌ وَفِضَّۃٌ ، فَجَعَلَ یَقْسِمُہَا بَیْنَ النَّاسِ ، فَجَائَ ابْنٌ لَہُ ، یُقَالَ لَہُ : عَبْدُ الرَّحْمَن ، فَقَالَ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، اُکْسُنِی خَاتَمًا ، فَقَالَ : اذْہَبْ إِلَی أُمِّکَ تَسْقِیک شَرْبَۃً مِنْ سَوِیقٍ ، قَالَ : فَوَاللہِ مَا أَعْطَانِی شَیْئًا۔
(٣٤٤٧٣) حضرت اسلم فرماتے ہیں کہ حضرت عمر کے پاس جلولاء کا مال غنیمت لایا گیا اس میں سونا اور چاندی بھی موجود تھے۔ آپ وہ مال غنیمت لوگوں میں تقسیم کررہے تھے کہ ان کے ایک بیٹے جن کا نام عبد الرحمن تھا، وہ آئے اور عرض کیا اے امیر المومنین ! مجھے ایک انگوٹھی دے دیجئے۔ حضرت عمر نے ان سے فرمایا کہ اپنی ماں کے پاس چلے جاؤ وہ تمہیں ستو کا شربت پلائے گی۔ آپ نے انھیں کچھ نہ دیا۔