(۳۴۴۷۴) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عْن أَبِیہِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللہِ بْنَ الأَرْقَمِ صَاحِبَ بَیْتِ مَالِ الْمُسْلِمِینَ ، یَقُولُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، عِنْدَنَا حِلْیَۃٌ مِنْ حِلْیَۃِ جَلُولاَئَ ، وَآنِیَۃُ ذَہَبٍ وَفِضَّۃٍ ، فَرَ فِیہَا رَأْیَک ، فَقَالَ : إِذَا رَأَیْتَنِی فَارِغًا فَآذنِّی ، فَجَائَ یَوْمًا ، فَقَالَ : إِنِّی أَرَاکَ الْیَوْمَ فَارِغًا ، یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، قَالَ : اُبْسُطْ لِی نِطْعًا فِی الْجِسْرِ ، فَبَسَطَ لَہُ نِطْعًا ، ثُمَّ أَتَی بِذَلِکَ الْمَالِ ، فَصُبَّ عَلَیْہِ ، فَجَائَ فَوَقَفَ عَلَیْہِ ، ثُمَّ قَالَ : اللَّہُمَّ إِنَّک ذَکَرْتَ ہَذَا الْمَالَ ، فَقُلْتَ : {زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّہَوَاتِ مِنَ النِّسَائِ وَالْبَنِینَ وَالْقَنَاطِیرِ الْمُقَنْطَرَۃِ مِنَ الذَّہَبِ وَالْفِضَّۃِ} وَقُلْتَ : {لِکَیْلاَ تَأْسَوْا عَلَی مَا فَاتَکُمْ ، وَلاَ تَفْرَحُوا بِمَا آتَاکُمَ} اللَّہُمَّ إِنَّا لاَ نَسْتَطِیعُ إِلاَّ أَنْ نَفْرَحَ بِمَا زَیَّنْتَ لَنَا ، اللَّہُمَّ أُنْفِقُہُ فِی حَقٍّ ، وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّہِ۔
(٣٤٤٧٤) حضرت اسلم فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن ارقم مسلمانوں کے بیت المال کے امیر تھے۔ انھوں نے حضرت عمر بن خطاب (رض) سے عرض کیا کہ اے امیر المومنین ! ہمارے پاس جلولاء کا زیور اور وہاں کے سونے و چاندی کے برتن ہیں۔ ان کے بارے میں اپنی رائے فرما دیجئے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ جب تم مجھے فارغ دیکھو تو اس بارے میں بتانا۔ ایک دن وہ حاضر ہوئے اور کہا کہ اے امیر المومنین ! آج آپ فارغ ہیں۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ ایک چٹائی بچھاؤ۔ ایک چٹائی بچھائی گئی اور اس پر وہ سارا مال ڈالا گیا۔ حضرت عمر (رض) اس کے پاس کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ اے اللہ تو نے اس مال کا ذکر کیا ہے اور تو نے فرمایا ہے { زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّہَوَاتِ مِنَ النِّسَائِ وَالْبَنِینَ وَالْقَنَاطِیرِ الْمُقَنْطَرَۃِ مِنَ الذَّہَبِ وَالْفِضَّۃِ } اور تو نے فرمایا ہے { لِکَیْلاَ تَأْسَوْا عَلَی مَا فَاتَکُمْ ، وَلاَ تَفْرَحُوا بِمَا آتَاکُمَ } اے اللہ ہمارے بس میں یہ نہیں ہے کہ ہم اس چیز پر خوش نہ ہوں جو تو نے ہمارے لیے مزین فرمائی ہے۔ اے اللہ اسے حق کے راستے میں خرچ فرما اور میں اس کے شر سے تیری پناہ چاہتاہوں۔