hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 34478

.

ابن أبي شيبة

34478
Ibn Abi Shaybah
(۳۴۴۷۹) حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : حدَّثَنَا زَائِدَۃُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ کُلَیْبٍ الْجَرْمِیُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِی أَبِی ؛ أَنَّہُ أَبْطَأَ عَلَی عُمَرَ خَبَرَ نَہَاوَنْد وَابْنَ مُقَرِّنٍ ، وَأَنَّہُ کَانَ یَسْتَنْصِرُ ، وَأَنَّ النَّاسَ کَانُوا یَرَوْنَ مِنَ اسْتِنْصَارِہِ أَنَّہُ لَمْ یَکُنْ لَہُ ذِکْرُ إِلاَّ نَہَاوَنْد وَابْنِ مُقَرِّنٍ ، قَالَ : فَقَدِمَ عَلَیْہِمْ أَعْرَابِیٌّ ، فَقَالَ : مَا بَلَغَکُمْ عَنْ نَہَاوَنْد وَابْنِ مُقَرِّنٍ ، قَالُوا : وَمَا ذَاکَ ؟ قَالَ : لاَ شَیْئَ ، قَالَ : فَنُمِیَتْ إِلَی عُمَرَ ، قَالَ : فَأَرْسَلَ إِلَیْہِ ، فَقَالَ : مَا ذِکْرُک نَہَاوَنْدَ وَابْنَ مُقَرِّنٍ ؟ فَإِنْ جِئْتَ بِخَبَرٍ فَأَخْبِرْنَا۔ قَالَ: یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، أَنَا فُلاَنُ بْنُ فُلاَنٍ الْفُلاَنِی، خَرَجْتُ بِأَہْلِی وَمَالِی ، مُہَاجِرًا إِلَی اللہِ وَرَسُولِہِ ، حَتَّی نَزَلْنَا مَوْضِعَ کَذَا وَکَذَا ، فَلَمَّا ارْتَحَلْنَا إِذَا رَجُلٌ عَلَی جَمَلٍ أَحْمَرَ لَمْ أَرَ مِثْلَہُ ، فَقُلْنَا : مَنْ أَیْنَ أَقْبَلْتَ ؟ قَالَ : مِنَ الْعِرَاقِ ، قُلْنَا : فَمَا خَبَرُ النَّاسِ، قَالَ: الْتَقَوْا، فَہَزَمَ اللَّہُ الْعَدُوَّ ، وَقُتِلَ ابْنُ مُقَرِّنٍ ، وَلاَ وَاللہِ ما أَدْرِی مَا نَہَاوَنْدُ وَلاَ ابْنُ مُقَرِّنٍ ، قَالَ : أَتَدْرِی أَیَّ یَوْمٍ ذَاکَ مِنَ الْجُمُعَۃِ ؟ قَالَ : لاَ وَاللہِ ، مَا أَدْرِی ، قَالَ : لَکِنِّی أَدْرِی ؛ فَعَدَّ مَنَازِلَک ، قَالَ : ارْتَحَلْنَا یَوْمَ کَذَا وَکَذَا ، فَنَزَلْنَا مَوْضِعَ کَذَا وَکَذَا ، فَعَدَّ مَنَازِلَہُ ، قَالَ : ذَاکَ یَوْمُ کَذَا وَکَذَا مِنَ الْجُمُعَۃِ ، وَلَعَلَّک أَنْ تَکُونَ لَقِیتَ بَرِیدًا مِنْ بُرْدِ الْجِنِ ، فَإِنَّ لَہُمْ بُرُدًا ، قَالَ : فَمَضَی مَا شَائَ اللَّہُ ، ثُمَّ جَائَ الْخَبَرُ بِأَنَّہُمَ الْتَقَوْا فِی ذَلِکَ الْیَوْمِ۔
(٣٤٤٧٩) حضرت عاصم بن کلیب جرمی فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) کے پاس نہاوند اور حضرت نعمان بن مقرن کی خبر آنے میں دیر ہوگئی۔ حضرت عمر (رض) اس بارے میں لوگوں سے پوچھا کرتے تھے، لیکن نہاوند اور ابن مقرن کی کوئی خبر انھیں حاصل نہ ہوئی۔ اتنے میں ایک دیہاتی آیا اور اس نے کہا کہ تمہیں نہاوند اور ابن مقرن کے بارے میں کیا خبر پہنچی ہے ؟ لوگوں نے کہا کہ کیا خبر ہے ؟ اس نے کہا کچھ نہیں۔ پھر حضرت عمر (رض) کو اس بات کی اطلاع ہوئی تو آپ نے اس دیہاتی کو بلایا اور اس سے پوچھا کہ تم نے نہاوند اور ابن مقرن کا ذکر کیوں کیا تھا ؟ اگر تمہارے پاس کوئی خبر ہے تو ہمیں بتادو۔ اس دیہاتی نے کہا کہ اے امیر المومنین ! میں فلاں بن فلاں ہوں اور میں فلاں قبیلے سے ہوں۔ میں اپنے اہل و عیال اور مال کو لے کر اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کی غرض سے نکلا ہوں۔ ہم نے فلاں فلاں جگہ قیام کیا ہے۔ جب ہم روانہ ہوئے تو ہم نے سرخ اونٹ پر ایک ایسا آدمی دیکھا جو ہم نے پہلے کبھی نہ دیکھا تھا۔ ہم نے اس سے کہا کہ تم کہاں سے آئے ہو ؟ اس نے کہا کہ میں عراق سے آیا ہوں۔ ہم نے کہا کہ وہاں لوگوں کی کیا خبر ہے ؟ اس نے کہا کہ وہاں جنگ ہوئی ہے، اللہ نے دشمن کو شکست دے دی اور ابن مقرن شہید ہوگئے۔ خدا کی قسم میں نہاوند اور ابن مقرن کو نہیں جانتا۔ حضرت عمر نے اس سے پوچھا کہ کیا تم بتاسکتے ہو کہ وہ کون سا دن تھا ؟ اس نے کہا کہ میں نہیں جانتا۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ تم نے کس کس جگہ قیام کیا ہے۔ مجھے اپنے قیام کی جگہیں بتاؤ۔ اس نے کہا کہ ہم فلاں دن نکلے تھے اور ہم نے فلاں فلاں جگہ قیام کیا تھا۔ اس طرح دن کو معلوم کرلیا گیا۔ حضرت عمر نے اس سے فرمایا کہ شاید تم جنوں کے کسی قاصد سے ملے تھے۔ پھر کچھ عرصہ گزرا تو نہاوند کی خبر آگئی اور وہ جنگ اسی دن ہوئی تھی۔