hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 34503

.

ابن أبي شيبة

34503
Ibn Abi Shaybah
(۳۴۵۰۴) حَدَّثَنَا شَاذَانُ ، قَالَ: حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِی الْعَلاَئِ ، قَالَ: کُنْتُ فِیمَنَ افْتَتَحَ تَکْرِیتَ فَصَالَحْنَاہُمْ عَلَی أَنْ یَبْرُزُوا لَنَا سُوقًا ، وَجَعَلْنَا لَہُمَ الأَمَانَ ، قَالَ : فَأَبْرُزُوا لَنَا سُوقًا ، قَالَ : فَقُتِلَ قَیْنٌ مِنْہُمْ ، فَجَائَ قَسَّہُمْ ، فَقَالَ : أَجَعَلْتُمْ لَنَا ذِمَّۃَ نَبِیِّکُمْ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَذِمَّۃَ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ ، وَذِمَّتَکُمْ ، ثُمَّ أَخْفَرْتُمُوہَا ؟ فَقَالَ أَمِیرُنَا : إِنْ أَقَمْتُمْ شَاہِدَیْنِ ذَوَیْ عَدْلٍ عَلَی قَاتِلِہِ أَقَدْنَاکُمْ بِہِ وَإِنْ شِئْتُمْ حَلَفْتُمْ وَأَعْطَیْنَاکُمَ الدِّیَۃَ وَإِنْ شِئْتُمْ حَلَفْنَا لَکُمْ وَلَمْ نُعْطِکُمْ شَیْئًا۔ قَالَ : فَتَوَاعَدُوا لِلْغَدِ ، فَحَضَرُوا ، فَجَائَ قَسُّہُمْ ، فَحَمِدَ اللَّہَ وَأَثْنَی عَلَیْہِ ، ثُمَّ ذَکَرَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ ، وَمَا شَائَ اللَّہُ أَنْ یَذْکُرَ حَتَّی ذَکَرَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ، ثُمَّ قَالَ: أَوَّلُ مَا یُبْدَأُ بِہِ مِنَ الْخُصُومَاتِ الدِّمَائُ ، قَالَ : فَیَخْتَصِمُ ابْنَا آدَمَ ، فَیَقْضِی لَہُ عَلَی صَاحِبِہِ، ثُمَّ یُؤْخَذُ الأَوَّلُ فَالأَوَّلُ ، حَتَّی یَنْتَہِیَ الأَمْرُ إِلَی صَاحِبِنَا وَصَاحِبِکُمْ ، قَالَ : فَیُقَالَ لَہُ : فِیمَ قَتَلَتْنِی ؟ قَالَ : فَلاَ نُحِبَّ أَنْ یَکُونَ لِصَاحِبِکُمْ عَلَی صَاحِبِنَا حُجَّۃٌ ، أَنْ یَقُولَ : قَدْ أَخَذَ أَہْلُک مِنْ بَعْدِکَ دِیَتَک۔
(٣٤٥٠٤) حضرت ابو علاء فرماتے ہیں کہ میں بھی تکریت کی فتح میں شامل تھا۔ ہم نے ان سے اس بات پر صلح کی کہ وہ ہمیں مال کی ایک مقررہ مقدار دیں اور ہم ان کو امان دیں گے۔ چنانچہ انھوں نے ہمیں مال دے دیا۔ پھر ان میں سے ایک شخص کو کسی نے قتل کردیا تو ان کا راہب ہمارے پاس آیا اور اس نے کہا کہ کیا تم نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور اپنے امیر المومنین اور اپنا عہد نہیں دیا تھا، پھر تم نے اس عہد کی پاسداری نہیں کی ؟ ! ہمارے امیر نے کہا کہ تم اس کے قاتل پر دو عادل گواہ پیش کردو تو ہم قاتل تمہارے حوالے کردیں گے اور اگر تم چاہو تو قسم کھالو ہم تمہیں فدیہ دے دیں گے اور اگر تم چاہو تو ہم قسم کھا لیں اس صورت میں تمہیں کچھ نہیں ملے گا۔
پس اگلے دن کی ملاقات طے ہوئی، ان کا پادری آیا اور اس نے اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کی، زمین و آسمان کا تذکرہ کیا، قیامت کے دن کا ذکر کیا پھر اس نے کہا کہ خصومات میں سب سے پہلے خون کا حساب ہوگا۔ آدم (علیہ السلام) کے دو بیٹے فریق ہوں گے اور ایک کے خلاف فیصلہ کردیا جائے گا۔ پھر ایک ایک کرکے خون کا حساب ہوگا معاملہ ہمارے اور تمہارے ساتھی تک آپہنچے گا۔ پس مقتول قاتل سے کہے گا کہ تو نے مجھے کیوں قتل کیا تھا ؟ ہمیں یہ بات پسند نہیں ہے کہ تمہارا ساتھی ہمارے ساتھی کو یہ جواب دے کر خاموش کرادے کہ تیرے بعد والوں نے تیری دیت وصول کرلی تھی۔