hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 34505

.

ابن أبي شيبة

34505
Ibn Abi Shaybah
(۳۴۵۰۶) حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ حُمَیْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ : قَالَ : حَاصَرْنَا تُسْتَرَ فَنَزَلَ الْہُرْمُزَانُ عَلَی حُکْمِ عُمَرَ فَبَعَثَ بِہِ أَبُو مُوسَی مَعِی ، فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَی عُمَرَ سَکَتَ الْہُرْمُزَانِ فَلَمْ یَتَکَلَّمْ ، فَقَالَ لَہُ عُمَرُ : تَکَلَّمَ ، فَقَالَ : أَکَلاَمُ حَیٍّ أَمْ کَلاَمُ مَیِّتٍ ؟ قَالَ : تَکَلَّمَ فَلاَ بَأْسَ ، قَالَ : إِنَّا وَإِیَّاکُمْ مَعْشَرَ الْعَرَبِ مَا خَلَّی اللَّہُ بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمْ فَإِنَّا کُنَّا نَقْتُلُکُمْ وَنُقْصِیکُمْ وَأَمَّا إِذْ کَانَ اللَّہُ مَعَکُمْ لَمْ یَکُنْ لَنَا بِکُمْ یَدَانِ ، فَقَالَ عُمَرُ : مَا تَقُولُ یَا أَنَسُ ؟ قُلْتُ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ تَرَکْتُ خَلْفِی شَوْکَۃً شَدِیدَۃً وَعَدَدًا کَثِیرًا إِنْ قَتَلْتَہُ أَیِسَ الْقَوْمُ مِنَ الْحَیَاۃِ ، وَکَانَ أَشَدُّ لِشَوْکَتِہِمْ وَإِنِ اسْتَحْیَیْتَہُ طَمِعَ الْقَوْمُ۔ فَقَالَ : یَا أَنَسُ اسْتَحْیِی قَاتِلَ الْبَرَائِ بْنِ مَالِکٍ وَمَجْزَأَۃَ بْنِ ثَوْرٍ ، فَلَمَّا خَشِیتُ أَنْ یَبْسُطَ عَلَیْہِ قُلْتُ : لَیْسَ إِلَی قَتْلِہِ سَبِیلٌ ، فَقَالَ عُمَرُ : لِمَ ؟ أَعْطَاک ؟ أَصَبْتَ مِنْہُ ؟ قُلْتُ : مَا فَعَلْتُ ، وَلَکِنَّک قُلْتَ لَہُ : تَکَلَّمَ فَلاَ بَأْسَ، قَالَ : لَتَجِیئَنَّی بِمَنْ یَشْہَدُ ، أَوْ لأََبْدَأَنَّ بِعُقُوبَتِکَ ، فَخَرَجْتُ مِنْ عِنْدِہِ ، فَإِذَا أَنَا بِالزُّبَیْرِ قَدْ حَفِظَ مَا حَفِظْتُ فَشَہِدَ عِنْدَہُ فَتَرَکَہُ ، وَأَسْلَمَ الْہُرْمُزَانُ وَفَرَضَ لَہُ۔
(٣٤٥٠٦) حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ ہم نے تستر کا محاصرہ کیا تو ہرمزان نے حضرت عمر کی خلافت کے سامنے سر تسلیم خم کرلیا۔ حضرت ابوموسیٰ (رض) نے ہرمزان کے ساتھ مجھے حضرت عمر کی طرف بھیجا۔ جب ہم حضرت عمر (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ہرمزان نے کوئی بات نہ کی اور خاموش رہا۔ حضرت عمر نے اس سے فرمایا کہ بات کرو۔ اس نے کہا کہ زندہ شخص کی بات کروں یامردہ کی ؟ حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ تم بات کرو تم پر کوئی حرج نہیں۔ اس نے کہا کہ اے اہل عرب اللہ تعالیٰ نے ہمارے اور تمہارے درمیان بہت فرق کردیا ہے، ایک وقت وہ تھا جب ہم تمہیں قتل کرتے تھے اور تم پر غالب آتے تھے۔ اور جب اللہ تمہارے ساتھ ہوگیا تو اب ہمارا تم پر زور نہیں چلتا۔ پھر حضرت عمر نے فرمایا کہ اے انس تم کیا کہتے ہو ؟ میں نے کہا کہ اے امیر المومنین ! میں نے اپنے پیچھے زبردست طاقت اور بڑی تعداد چھوڑی ہے۔ اگر آپ اس کو قتل کردیں گے تو لوگ زندگی سے مایوس ہوجائیں گے اور یہ ان کی قوت کے لیے سخت ہوگا اور اگر آپ اسے زندہ چھوڑیں گے تو لوگ لالچ کریں گے۔
حضرت عمر نے فرمایا کہ کیا میں براء بن مالک اور مجزأۃ بن ثور کے قاتل کو زندہ چھوڑ دوں ! حضرت انس فرماتے ہیں کہ جب میں نے دیکھا کہ وہ اسے قتل کردیں گے تو میں نے کہا کہ آپ اسے قتل نہیں کرسکتے ؟ انھوں نے فرمایا کیوں ؟ کیا تم نے اس سے کوئی مالی مدد لے لی ہے ؟ میں نے کہا میں نے ایسا نہیں کیا۔ آپ نے اس سے کہا کہ تم بات کرو تمہارا کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ تم اس بات پر گواہ پیش کرو ورنہ میں تمہیں سزا دوں گا۔ پس میں گواہ کی تلاش میں نکلا تو مجھے حضرت زبیر ملے، انھیں بھی وہ بات یاد تھی جو مجھے یاد تھی۔ انھوں نے اس بات کی گواہی دی تو حضرت عمر نے ہرمزان کو چھوڑ دیا اور بعد میں اس نے اسلام قبول کرلیا اور حضرت عمر نے اس کا وظیفہ مقرر کردیا۔