(۳۴۵۰۷) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعبَۃَ ، عَنْ حَبِیبِ بْنِ شِہَابٍ ، عَنْ أَبِیہِ ؛ أَنَّہُ غَزَا مَعَ أَبِی مُوسَی حَتَّی إِذَا کَانَ یَوْمُ قَدِمُوا تُسْتَرَ ، رُمِیَ الأَشْعَرِیُّ فَصُرِعَ فَقُمْتُ مِنْ وَرَائِہِ بِالْتِّرسِ حَتَّی أَفَاقَ ، قَالَ : فَکُنْتُ أَوَّلُ رَجُلٍ مِنَ الْعَرَبِ أَوْقَدَ فِی بَابِ تُسْتَرَ نَارًا ، قَالَ : فَلَمَّا فَتَحْنَاہَا وَأَخَذْنَا السَّبْیَ ، قَالَ أَبُو مُوسَی : اخْتَرْ مِنَ الْجُنْدِ عَشَرَۃَ رَہْطٍ لِیَکُونُوا مَعَک عَلَی ہَذَا السَّبْیِ ، حَتَّی نَأْتِیَک ، ثُمَّ مَضَی وَرَائَ ذَلِکَ فِی الأَرْضِ ، حَتَّی فَتَحُوا مَا فَتَحُوا مِنَ الأَرْضَینِ ، ثُمَّ رَجَعُوا عَلَیْہِ فَقَسَّمَ أَبُو مُوسَی بَیْنَہُمَ الْغَنَائِمَ ، فَکَانَ یَجْعَلُ لِلْفَارِسِ سَہْمَیْنِ وَلِلرَّاجِلِ سَہْمًا وَکَانَ لاَ یُفَرِّقُ بَیْنَ الْمَرْأَۃِ وَبَیْنَ وَلَدِہَا عِنْدَ الْبَیْعِ۔
(٣٤٥٠٧) حضرت شہاب فرماتے ہیں کہ انھوں نے حضرت ابوموسیٰ کے ساتھ جہاد کیا۔ جس دن ہم تستر پہنچے، حضرت اشعری کو تیرلگا اور وہ زمین پر گرگئے۔ میں ان کے پیچھے کمان لے کر کھڑا ہوگیا۔ جب انھیں افاقہ ہوا تو انھوں نے کہا کہ میں عرب میں سے پہلا شخص ہوں جس نے تستر کے دروازے پر آگ جلائی ہے۔ جب ہم نے تستر کو فتح کرلیا اور قیدی پکڑ لیے تو حضرت ابوموسیٰ نے فرمایا کہ فوج میں سے دس آدمیوں کا انتخاب کرلو کہ وہ ہماری واپسی تک ان قیدیوں کی نگرانی کے لیے تمہارے ساتھ رہیں۔ پھر وہ آگے بڑھے اور بہت سے علاقے فتح کرکے واپس آگئے۔ حضرت ابو موسیٰ نے مجاہدین کے درمیان مال غنیمت کو تقسیم کیا، وہ گھڑ سوار کو دو حصے اور پیادہ کو ایک حصہ دیتے تھے اور جب کسی قیدی عورت کو فروخت کرتے تو اس کو اس کے بچے سے جدا نہ کرتے تھے۔