hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 34509

.

ابن أبي شيبة

34509
Ibn Abi Shaybah
(۳۴۵۱۰) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا ہَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ زُرَارَۃَ بْنِ أَوْفَی ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ مَالِکٍ ؛ أَنَّہُ قَالَ : شَہِدْتُ فَتْحَ تُسْتَرَ مَعَ الأَشْعَرِیِّ ، قَالَ : فَأَصَبْنَا دَانْیَالَ بِالسَّوسِ ، قَالَ : فَکَانَ أَہْلُ السَّوسِ إِذَا أَسْنَتوا أَخْرَجُوہُ فَاسْتَسْقَوْا بِہِ وَأَصَبْنَا مَعَہُ سِتِّینَ جَرَّۃً مُخَتَّمَۃً ، قَالَ : فَفَتَحْنَا جَرَّۃً مِنْ أَدْنَاہَا ، وَجَرَّۃً مِنْ أَوْسَطِہَا ، وَجَرَّۃً مِنْ أَقْصَاہَا فَوَجَدْنَا فِی کُلِّ جَرَّۃٍ عَشَرَۃَ آلاَفٍ ، قَالَ ہَمَّامٌ : مَا أَرَاہُ قَالَ إِلاَّ عَشَرَۃَ آلاَفٍ ، وَأَصَبْنَا مَعَہُ رَیْطَتَیْنِ مِنْ کَتَّانٍ وَأَصَبْنَا مَعَہُ رَبَعَۃً فِیہَا کِتَابٌ وَکَانَ أَوَّلُ رَجُلٍ وَقَعَ عَلَیْہِ رَجُلٌ مِنْ بَلَعَنَبَرَ ، یُقَالَ لَہُ : حُرْقُوصٌ ، قَالَ : فَأَعْطَاہُ الأَشْعَرِیُّ الرَّیْطَتَیْنِ ، وَأَعْطَاہُ مِئَتَیْ دِرْہَمٍ ، قَالَ : ثُمَّ إِنَّہُ طَلَبَ إِلَیْہِ الرَّیْطَتَیْنِ بَعْدَ ذَلِکَ ، فَأَبَی أَنْ یَرُدَّہُمَا عَلَیْہِ ، وَشَقَّہُمَا عَمَائِمَ بَیْنَ أَصْحَابِہِ۔ قَالَ : وَکَانَ مَعَنَا أَجِیرٌ نَصْرَانِیٌّ یُسَمَّی نُعَیْمًا ، فَقَالَ : بِیعُونِی ہَذِہِ الرِّبْعَۃَ بِمَا فِیہَا ، قَالُوا : إِنْ لَمْ یَکُنْ فِیہَا ذَہَبٌ ، أَوْ فِضَّۃٌ ، أَوْ کِتَابُ اللہِ ، قَالَ : فَإِنَّ الَّذِی فِیہَا کِتَابُ اللہِ فَکَرِہُوا أَنْ یَبِیعُوہُ الْکِتَابَ فَبِعْنَاہُ الرِّبْعَۃَ بِدِرْہَمَیْنِ وَوَہَبْنَا لَہُ الْکِتَابَ ، قَالَ قَتَادَۃُ : فَمِنْ ثُمَّ کُرِہَ بَیْعُ الْمَصَاحِفِ ،لأَنَّ الأَشْعَرِیَّ وَأَصْحَابَہُ کَرِہُوا بَیْعَ ذَلِکَ الْکِتَابِ۔ قَالَ ہَمَّامٌ : فَزَعَمَ فَرْقَدُ السَّبَخِیُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِی أَبُو تَمِیمَۃَ ؛ أَنَّ عُمَرَ کَتَبَ إِلَی الأَشْعَرِیِّ : أَنْ یُغَسِّلُوا دَانْیَالَ بِالسِّدْرِ وَمَائِ الرَّیْحَانِ ، وَأَنْ یُصَلِّی عَلَیْہِ ، فَإِنَّہُ نَبِیٌّ دَعَا رَبَّہُ أَنْ لاَ یَلِیہِ إِلاَّ الْمُسْلِمُونَ۔
(٣٤٥١٠) حضرت مطرف بن مالک فرماتے ہیں کہ میں تستر کی فتح میں حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) کے ساتھ تھا۔ مقام سوس میں ہمیں حضرت دانیال (علیہ السلام) کی قبر ملی۔ اہل سوس کا معمول تھا کہ جب ان کے یہاں قحط آتا تو وہ ان کے ذریعے بارش طلب کیا کرتے تھے۔ ہمیں ان کے ساتھ ساٹھ گھڑے ملے جن کے منہ مہر سے بند کئے گئے تھے۔ ہم نے ایک گھڑے کو نیچے سے، ایک کو درمیان سے اور ایک کو اوپر سے کھولا تو ہر گھڑے میں دس ہزار درہم تھے۔ ساتھ ہمیں روئی کے کپڑے کے دو بنڈل ملے اور کتابوں کی ایک الماری ملی۔ سب سے پہلے بلعنبر کے ایک آدمی نے حملہ کیا تھا جس کا نام حرقوس تھا۔ حضرت ابو موسیٰ نے اسے دو بنڈل اور دو سو درہم دیئے۔ بعد میں اس سے یہ دو بنڈل واپس مانگے گئے تو اس نے دینے سے انکار کردیا اور اسے کاٹ کر اپنے ساتھیوں کو عمامے بنا دیئے۔
راوی کہتے ہیں کہ اس جنگ میں ہمارے ساتھ ایک نصرانی مزدور تھا جس کا نام ” نُعیم “ تھا۔ اس نے کہا کہ مجھے یہ الماری بیچ دو ۔ اس سے کہا گیا کہ اگر اس میں سونا یا چاندی یا اللہ کی کتاب نہ ہو تو لے لو۔ دیکھا گیا تو اس میں اللہ کی کتاب تھی۔ لہٰذا لوگوں نے کتاب کے بیچنے کو ناپسند خیال کیا اور الماری اسے دو درہم میں بیچ دی اور کتاب اسے ہدیہ کردی۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد سے مصاحف کی بیع کو مکروہ خیال کیا جانے لگا کیونکہ حضرت اشعری اور ان کے ساتھیوں نے اسے مکروہ خیال کیا تھا۔
حضرت ابو تمیمہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے حضرت ابو موسیٰ کو خط لکھا کہ حضرت دانیال کی قبر کو بیری اور ریحان کے پانی سے غسل دو اور ان کی نماز جنازہ پڑھو، کیونکہ انھوں نے دعا کی تھی کہ صرف مسلمان ہی ان کے وارث بنیں۔