(۳۴۵۱۱) حَدَّثَنَا شَاذَانُ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، عَنْ أَبِی عِمْرَانَ الْجَوْنِیِّ ، عَنْ أَنَسٍ؛ أَنَّہُمْ لَمَّا فَتَحُوا تُسْتَرَ، قَالَ : وَجَدْنَا رَجُلاً أَنْفُہُ ذِرَاعٌ فِی التَّابُوتِ کَانُوا یَسْتَظْہِرُونَ ، أَوْ یَسْتَمْطِرُونَ بِہِ فَکَتَبَ أَبُو مُوسَی إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ بِذَلِکَ ، فَکَتَبَ عُمَرُ: إِنَّ ہَذَا نَبِیٌّ مِنَ الأَنْبِیَائِ ، وَالنَّارُ لاَ تَأْکُلُ الأَنْبِیَائَ أَوْ الأَرْضُ لاَ تَأْکُلُ الأَنْبِیَائَ فَکَتَبَ إِلَیْہِ : أَنْ اُنْظُرْ أَنْتَ وَرَجُلٌ من َأَصْحَابِکَ ، یَعْنِی أَصْحَابَ أَبِی مُوسَی ، فَادْفِنُوہُ فِی مَکَان لاَ یَعْلَمُہُ أَحَدٌ غَیْرُکُمَا ، قَالَ : فَذَہَبْتُ أَنَا ، وَأَبُو مُوسَی فَدَفَنَّاہُ۔
(٣٤٥١١) حضرت انس فرماتے ہیں کہ جب ہم نے تستر کو فتح کیا تو ہم نے دیکھا کہ وہاں ایک آدمی کی قبر ہے جس کا جسم سلامت ہے۔ وہ لوگ اس کے ذریعے بارش طلب کیا کرتے تھے۔ حضرت ابو موسیٰ نے اس بارے میں حضرت عمر کو خط لکھا تو حضرت عمر نے جواب میں فرمایا کہ یہ کسی نبی کی قبر ہے کیونکہ زمین انبیاء کے جسم کو نہیں کھاتی۔ اور انھیں کسی ایسی جگہ دفن کردو جہاں تمہارے اور تمہارے ایک ساتھی کے سوا کوئی نہ جانتا ہو۔ چنانچہ میں اور حضرت ابوموسیٰ ان کی میت کو لے کر گئے اور اسے دفن کردیا۔