(۳۴۵۱۲) حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ حُمَیْدٍ ، عَنْ حَبِیبٍ أَبِی یَحْیَی ؛ أَنَّ خَالِدَ بْنَ زَیْدٍ ، وَکَانَتْ عَیْنُہُ أُصِیبَتْ بِالسَّوسِ، قَالَ: حَاصَرْنَا مَدِینَتَہَا ، فَلَقِینَا جَہْدًا ، وَأَمِیرُ الْجَیْشِ أَبُو مُوسَی وَأَخَذَ الدِّہْقَانُ عَہْدَہُ وَعَہْدَ مَنْ مَعَہُ ، فَقَالَ أَبُو مُوسَی : اعْزِلْہُمْ فَجَعَلَ یَعْزِلْہُمْ ، وَجَعَلَ أَبُو مُوسَی یَقُولُ لأَصْحَابِہِ : إِنِّی لأَرْجُوَ أَنْ یَخْدَعَہُ اللَّہُ عَنْ نَفْسِہِ فَعَزَلَہُمْ وَبَقَیَ عَدُوُّ اللہِ فَأَمَرَ بِہِ أَبُو مُوسَی فَنَادَی وَبَذَلَ لَہُ مَالاً کَثِیرًا فَأَبَی وَضَرَبَ عُنُقَہُ۔
(٣٤٥١٢) حضرت حبیب بن ابی یحییٰ فرماتے ہیں کہ سوس کی لڑائی میں حضرت خالد بن زید کی آنکھ شہید ہوگئی تھی۔ ہم نے سوس کا محاصرہ کیا، اس دوران ہمیں بہت مشقت اٹھانا پڑی۔ لشکر کے امیر حضرت ابو موسیٰ تھے۔ وہاں کے ایک آدمی نے اپنا اور اپنے اہل و عیال کا امان حاصل کیا تو حضرت ابو موسیٰ نے اس سے فرمایا کہ دشمنوں سے الگ ہوجا۔ اس نے اپنے اہل و عیال کو محفوظ مقام پر پہنچانا شروع کردیا۔ حضرت ابو موسیٰ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا کہ ہوسکتا ہے کہ یہ دھوکا دے۔ چنانچہ وہ اپنے اہل کو محفوظ کرکے پھر لڑائی کے لیے دشمنوں کے ساتھ ہولیا۔ حضرت ابو موسیٰ نے حکم دیا کہ اسے گرفتار کرکے لایا جائے، وہ لایا گیا اور اس نے اپنی جان کے بدلے بہت سا مال دینے کی فرمائش کی، لیکن حضرت ابو موسیٰ نے انکار کردیا اور اس کی گردن اڑا دی۔