(۳۴۵۱۵) حَدَّثَنَا رَیْحَانُ بْنُ سَعِیدٍ ، قَالَ : حدَّثَنِی مَرْزُوقُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : حَدَّثَنِی أَبُو فَرْقَدٍ ، قَالَ : کُنَّا مَعَ أَبِی مُوسَی یَوْمَ فَتَحْنَا سُوقَ الأَہْوَازِ فَسَعَی رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِکِینَ وَسَعَی رَجُلاَنِ مِنَ الْمُسْلِمِینَ خَلْفَہُ ، قَالَ : فَبَیْنَا ہُوَ یَسْعَی وَیَسْعَیَانِ إِذْ قَالَ أَحَدُہُمَا لَہُ : مَتَّرَسُ فَقَامَ الرَّجُلُ فَأَخَذَاہُ فَجَائَا بِہِ أَبَا مُوسَی ، وَأَبُو مُوسَی یَضْرِبُ أَعْنَاقَ الأُسَارَی ، حَتَّی انْتَہَی الأَمْرُ إِلَی الرَّجُلِ ، فَقَالَ أَحَدُ الرَّجُلَیْنِ : إِنَّ ہَذَا جُعِلَ لَہُ الأَمَانُ ، قَالَ أَبُو مُوسَی : وَکَیْفَ جُعِلَ لَہُ الأَمَانُ ؟ قَالَ : إِنَّہُ کَانَ یَسْعَی ذَاہِبًا فِی الأَرْضِ ، فَقُلْتُ لَہُ مَتَّرَسُ ، فَقَامَ ، فَقَالَ أَبُو مُوسَی : وَمَا مَتَّرَسُ ؟ قَالَ : لاَ تَخَفْ ، قَالَ : ہَذَا أَمَانٌ خَلَّیَا سَبِیلَہُ ، قَالَ : فَخَلَّیَا سَبِیلَ الرَّجُلِ۔
(٣٤٥١٥) حضرت ابو فرقد فرماتے ہیں کہ جب ہم نے حضرت ابو موسیٰ (رض) کی قیادت میں اہواز کے بازار کو فتح کیا تو مشرکین کا ایک آدمی بھاگا۔ دو مسلمان بھی اس کے پیچھے بھاگے، دوڑتے ہوئے ایک مسلمان نے اس سے کہا ” مترس “ یہ سن کر وہ رک گیا، انھوں نے اسے پکڑ لیا اور حضرت ابو موسیٰ کے پاس لے آئے۔ حضرت ابو موسیٰ قیدیوں کے سر قلم کررہے تھے، جب اس آدمی کی باری آئی تو اسے پکڑنے والے مسلمانوں نے کہا کہ اسے امان دی گئی ہے۔ حضرت ابو موسیٰ نے پوچھا کہ اسے کیسے امان دی گئی ؟ اس آدمی نے کہا کہ یہ بھاگ رہا تھا میں نے اسے کہا ” مترس “ تو یہ کھڑا ہوگیا۔ حضرت ابو موسیٰ نے پوچھا کہ مترس کا کیا مطلب ہے ؟ اس نے کہا کہ اس کا مطلب ہے مت ڈرو۔ حضرت ابو موسیٰ نے فرمایا کہ یہ امان ہے۔ اس آدمی کو جانے دو ۔ لہٰذا اس آدمی کو آزاد کردیا گیا۔