(۳۴۵۱۶) حَدَّثَنَا مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ سدیْسٍ الْعَدَوِیِّ ، قَالَ : غَزَوْنَا مَعَ الأَمِیرِ الأُبُلَّۃَ فَظَفَرْنَا بِہَا ، ثُمَّ انْتَہَیْنَا إِلَی الأَہْوَازِ وَبِہَا نَاسٌ مِنَ الزَّطِّ وَالأَسَاوِرَۃِ فَقَاتَلْنَاہُمْ قِتَالاً شَدِیدًا فَظَفَرْنَا بِہِمْ وَأَصَبْنَا سَبْیًا کَثِیرًا ، فَاقْتَسَمْنَاہُمْ فَأَصَابَ الرَّجُلُ الرَّأْسَ وَالاِثْنَیْنِ فَوَقَعْنَا عَلَی النِّسَائِ فَکَتَبَ أَمِیرُنَا إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ بِاَلَّذِی کَانَ فَکَتَبَ إِلَیْہِ : إِنَّہُ لاَ طَاقَۃَ لَکُمْ بِعِمَارَۃِ الأَرْضِ خَلَّوْا مَا فِی أَیْدِیکُمْ مِنَ السَّبْی وَلاَ تُمَلِّکُوا أَحَدًا مِنْہُمْ أَحَدًا وَاجْعَلُوا عَلَیْہِمْ مِنَ الْخَرَاجِ قَدْرَ مَا فِی أَیْدِیہِمْ مِنَ الأَرْضِ ، فَتَرَکْنَا مَا فِی أَیْدِینَا مِنَ السَّبْیِ ، فَکَمْ مِنْ وَلَدٍ لَنَا غَلَبَہُ الْہِمَاسُ وَکَانَ فِیمَنْ أَصَبْنَا أُنَاسٌ مِنَ الزَّطِّ یَتَشَبَّہُونَ بِالْعَرَبِ ، یُوفِرُونَ لِحَاہُمْ ، وَیَأْتَزِرُونَ وَیَحْتَبُونَ فِی مَجَالِسِہِمْ فَکَتَبَ فِیہِمْ إِلَی عُمَرَ ، فَکَتَبَ إِلَیْہِ عُمَرُ : أَنْ أَدْنِہِمْ مِنْک فَمَنْ أَسْلَمَ مِنْہُمْ فَأَلْحِقْہُ بِالْمُسْلِمِینَ ، فَلَمَّا بُلُوْا بِالنَّاسِ لَمْ یَکُنْ عِنْدَہُمْ بَأْسٌ وَکَانَتِ الأَسَاوِرَۃُ أَشَدَّ مِنْہُمْ بَأْسًا فَکَتَبَ فِیہِمْ إِلَی عُمَرَ ، فَکَتَبَ إِلَیْہِ عُمَرُ : أَنْ أَدْنِہِمْ مِنْک ، فَمَنْ أَسْلَمَ مِنْہُمْ فَأَلْحَقَہُ بِالْمُسْلِمِینَ۔
(٣٤٥١٦) حضرت سدیس عدوی فرماتے ہیں کہ ہم نے اپنے امیر کے ساتھ ابلہ کی لڑائی میں حصہ لیا۔ وہاں ہم کامیاب ہوئے، پھر ہم اہواز گئے، وہاں سوڈان اور اس اور ہ کے لوگ تھے۔ ہم نے ان سے زبردست لڑائی کی اور ہم کامیاب ہوگئے۔ اس میں بہت سے قیدی ہمارے ہاتھ لگے اور ہم نے انھیں آپس میں تقسیم کرلیا۔ بعض لوگوں کو ایک اور بعض کو دو قیدی ملے۔ ہم نے اپنی مملوکہ عورتوں سے جماع بھی کیا۔ حضرت عمر (رض) کو اس کی اطلاع ہوئی تو انھوں نے ہمیں خط لکھا جس میں تحریر تھا کہ تمہیں ان قیدیوں پر قبضہ جمانے کا کوئی حق نہیں، سب قیدیوں کو آزاد کردو اور تم ان میں سے کسی کے مالک نہیں ہو۔ ان کے پاس جتنی زمین ہے اس کے بقدر ان سے خراج لو۔ چنانچہ اس حکم کے آنے کے بعد ہم نے سب قیدیوں کو آزاد کردیا۔ جن سوڈانی لوگوں پر ہم غالب آئے تھے ان میں سے بہت سے عربوں کے مشابہ تھے۔ لمبی داڑھی رکھتے تھے، ازار باندھتے تھے اور ٹانگوں کے گرد حلقہ بنا کر بیٹھتے تھے۔ ان کے بارے میں حضرت عمر کو خط لکھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ ان لوگوں کو اپنے قریب کرو، ان میں سے جو اسلام قبول کرلے اسے مسلمانوں کے ساتھ شامل کردو۔ جب وہ لوگوں کے ساتھ گھل مل جائیں گے تو ان میں سختی نہیں رہے گی۔ اس اور ہ ان سے زیادہ زور آور تھے۔ ان کے بارے میں بھی حضرت عمر کو لکھا گیا تو آپ نے جواب میں فرمایا کہ ان کو قریب کرو جو اسلام قبول کرلے اسے مسلمانوں کے ساتھ ملا دو ۔