hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 34517

.

ابن أبي شيبة

34517
Ibn Abi Shaybah
(۳۴۵۱۸) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، قَالَ : حَدَّثَنِی عَطَائُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِی زُرْعَۃَ بْنِ عَمْرو بْنِ جَرِیرٍ ؛ أَنَّ رَجُلاً کَانَ ذَا صَوْتٍ وَنِکَایَۃٍ عَلَی الْعَدُوِّ مَعَ أَبِی مُوسَی فَغَنِمُوا مَغْنَمًا ، فَأَعْطَاہُ أَبُو مُوسَی نَصِیبَہُ وَلَمْ یُوفِہِ فَأَبَی أَنْ یَأْخُذَہُ إِلاَّ جَمْیعًا فَضَرَبَہُ عِشْرِینَ سَوْطًا وَحَلقَہُ فَجَمَعَ شَعَرَہُ ، وَذَہَبَ إِلَی عُمَرَ ، فَدَخَلَ عَلَیْہِ ، فَقَالَ جَرِیرٌ : وَأَنَا أَقْرَبُ النَّاسِ مِنْہُ فَأَخْرَجَ شَعَرَہُ مِنْ ضَِبْنہِ فَضَرَبَ بِہِ صَدْرَ عُمَرَ ، فَقَالَ : أَمَا وَاللہِ لَوْلاَہُ ، فَقَالَ عُمَرُ : صَدَقَ لَوْلاَ النَّارُ ، فَقَالَ : مَالِکَ ؟ فَقَالَ : کُنْتُ رَجُلاً ذَا صَوْتٍ وَنِکَایَۃٍ عَلَی الْعَدُوِّ فَغَنِمْنَا مَغْنَمًا وَأَخْبَرَہُ بِالأَمْرِ ، وَقَالَ : حَلَقَ رَأْسِی وَجَلَدَنِی عِشْرِینَ سَوْطًا ، یَرَی أَنَّہُ لاَ یُقْتَصَّ مِنْہُ ، فَقَالَ عُمَرُ : لأَنْ یَکُونَ النَّاسُ کُلُّہُمْ عَلَی مِثْلِ صَرَامَۃِ ہَذَا ، أَحَبَّ مِنْ جَمِیعِ مَا أُفِیء عَلَیْنَا ، قَالَ : فَکَتَبَ عُمَرُ إِلَی أَبِی مُوسَی: سَلاَمٌ عَلَیْکُمْ، أَمَّا بَعْدُ؛ فَإِنَّ فُلاَنَ بْنَ فُلاَنٍ أَخْبَرَنِی بِکَذَا وَکَذَا وَإِنِّی أُقْسِمُ عَلَیْک إِنْ کُنْتَ فَعَلْتَ بِہِ مَا فَعَلْتَ فِی مَلأ مِنَ النَّاسِ، لَمَا جَلَسْتَ فِی مَلأ مِنْہُمْ ، فَاقتصّ مِنْک وَإِنْ کُنْتَ فَعَلْتَ بِہِ مَا فَعَلْتَ فِی خَلاَئٍ ، فَاقْعُدْ لَہُ فِی خَلاَئٍ ، فَیُقْتَصَّ مِنْک ، فَقَالَ لَہُ النَّاسُ : اُعْفُ عَنْہُ ، فَقَالَ : لاَ وَاللہِ ، لاَ أَدَعُہُ لأَحَدٍ مِنَ النَّاسِ ، فَلَمَّا دَفَعَ إِلَیْہِ الْکِتَابُ ، قَعَدَ لِلْقِصَاصِ ، فَرَفَعَ رَأْسَہُ إِلَی السَّمَائِ ، وَقَالَ : قَدْ عَفَوْتُ عَنْہ۔ وَقَدْ قَالَ حَمَّادٌ أَیْضًا : فَأَعْطَاہُ أَبُو مُوسَی بَعْضَ سَہْمِہِ وَقَدْ قَالَ أَیْضًا جَرِیرٌ : وَأَنَا أَقْرَبُ الْقَوْمِ مِنْہُ ، قَالَ : وَقَالَ أَیْضًا : قَدْ عَفَوْتُ عَنْہُ لِلَّہِ۔
(٣٤٥١٨) حضرت ابو زرعہ بن عمرو بن جریر فرماتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ کے ساتھیوں میں ایک آدمی بہت بہادر اور دلیر تھا۔ جب مسلمانوں کو مال غنیمت حاصل ہوا تو حضرت ابو موسیٰ نے اسے اس کا حصہ پورا نہ دیا۔ اس نے کم حصہ لینے سے انکار کردیا۔ حضرت ابو موسیٰ نے اسے بیس کوڑے لگوائے اور اس کا سر مونڈ دیا۔ اس نے اپنے بال جمع کئے اور حضرت عمر (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنے بال ان کے سینے پر مارے اور کہا کہ خدا کی قسم ! اگر وہ نہ ہوتی ! حضرت عمر نے فرمایا کہ یہ سچ کہتا ہے کہ اگر جہنم نہ ہوتی۔ پھر حضرت عمر نے اس سے اس کی وجہ پوچھی تو اس نے ساری بات بتائی اور کہا کہ حضرت ابو موسیٰ کا خیال ہے کہ ان سے اس کا بدلہ نہیں لیا جائے گا۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ لوگوں کے درمیان برابری کرنا میرے نزدیک مال غنیمت کے حصول سے بہتر ہے۔
پھر حضرت عمر نے حضرت ابو موسیٰ کو خط لکھا جس میں سلام کے بعد فرمایا کہ فلاں بن فلاں نے مجھے یہ خبر دی ہے اور میں تمہیں قسم دے کر کہتاہوں کہ اگر تم نے اس کے ساتھ یہ زیادتی لوگوں کے سامنے کی ہے تو لوگوں کے سامنے بیٹھ کر اسے بدلہ دو اور اگر تنہائی میں کی ہے تو تنہائی میں اسے بدلہ دو ۔ لوگوں نے حضرت عمر سے درخواست کی کہ انھیں معاف فرما دیجئے۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ میں انصاف کو کسی کے لیے پس پشت نہیں ڈال سکتا۔ جب خط انھیں ملا تو وہ بدلے کے لیے بیٹھے اور اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا لیکن اس آدمی نے کہا کہ میں نے آپ کو معاف کردیا۔