(۳۴۵۱۹) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُغِیرَۃُ ، عَنْ سِمَاکِ بْنِ سَلَمَۃَ ؛ أَنَّ الْمُسْلِمِینَ لَمَّا فَتَحُوا تُسْتَرَ وَضَعُوا بِہَا وَضَائِعَ الْمُسْلِمِینَ وَتَقَدَّمُوا لِقِتَالِ عَدُوِّہِمْ ، قَالَ : فَغَدَرَ بِہِمْ دِہْقَانُ تُسْتَرَ ، فَأَحْمَی لَہُمْ تَنُّورًا وَعَرَضَ عَلَیْہِمْ لَحْمَ الْخِنْزِیرِ وَالْخَمرِ ، أَوِ التَّنُّورِ ، قَالَ : فَمِنْہُمْ مِنْ أَکَلَ فَتُرِکَ ، قَالَ : فَعَرَضَ عَلَی نُہَیْبِ بْنِ الْحَارِثِ الضَّبِّیِّ ، فَأَبَی فَوُضِعَ فِی التَّنُّورِ ، قَالَ : ثُمَّ إِنَّ الْمُسْلِمِینَ رَجَعُوا ، فَحَاصَرُوا أَہْلَ الْمَدِینَۃِ حَتَّی صَالَحُوا الدِّہْقَانَ ، فَقَالَ ابْنُ أَخٍ لِنُہَیْبٍ لِعَمِّہِ : یَا عَمَّاہُ ہَذَا قَاتِلُ نُہَیْبٍ ، قَالَ : یَا ابْنَ أَخِی إِنَّ لَہُ ذِمَّۃً ، قَالَ سِمَاکٌ : بَلَغَنِی أَنَّ عُمَرَ بَلَغَہُ ذَلِکَ ، فَقَالَ : یَرْحَمُہُ اللَّہُ ، وَمَا عَلَیْہِ لَوْ کَانَ أَکَلَ۔
(٣٤٥١٩) حضرت سماک بن سلمہ فرماتے ہیں کہ جب مسلمانوں نے تستر کو فتح کیا اور دشمن سے قتال کے لیے آگے بڑھ گئے تو وہاں کے ایک مالدار آدمی نے مسلمان مجاہدین سے غداری کی اور انھیں گرفتار کرلیا۔ پھر اس نے ایک تنور جلایا اور ان کے ساتھ خنزیر کا گوشت اور شراب رکھی اور ان سے کہا کہ یا تو یہ کھالو یا تنور میں ڈال دیئے جاؤ گے۔ چنانچہ جس نے شراب پی لی اور خنزیر کا گوشت کھالیا اسے چھوڑ دیا گیا۔ حضرت نہیب بن حارث کے سامنے یہ چیزیں پیش کی گئیں لیکن انھوں نے انکار کردیا۔ اور اس پر انھیں تنور میں ڈال دیا گیا مسلمان جب جنگی مہمات سے واپس آئے اور شہر کا محاصرہ کیا اور تستر والوں سے صلح ہوئی تو اس مالدار آدمی سے بھی صلح ہوگئی۔ ایک دن حضرت نہیب کے بھتیجے نے اپنے چچا سے کہا کہ اے چچا جان یہ آدمی نہیب کا قاتل ہے۔ انھوں نے جواب دیا کہ اب یہ لوگ مسلمانوں کے عہد میں آچکے ہیں اس لیے اب ہم انھیں کچھ نہیں کہہ سکتے۔ جب اس سارے واقعہ کی اطلاع حضرت عمر کو ہوئی تو انھوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نہیب پر رحم فرمائے اگر وہ مجبوری میں جان بچانے کے لیے وہ چیزیں کھالیتے تو کوئی گناہ نہ ہوتا۔