hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 34520

.

ابن أبي شيبة

34520
Ibn Abi Shaybah
(۳۴۵۲۱) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : لَمَّا قَدِمَ عَلَی عُمَرَ فَتَحَ تُسْتَرَ وَتُسْتَرُ مِنْ أَرْضِ الْبَصْرَۃِ سَأَلَہُمْ: ہَلْ مِنْ مُغْرِبَۃٍ، قَالُوا: رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِینَ لَحِقَ بِالْمُشْرِکِینَ فَأَخَذْنَاہُ، قَالَ: مَا صَنَعْتُمْ بِہِ؟ قَالُوا: قَتَلْنَاہُ ، قَالَ: أَفَلاَ أَدْخَلْتُمُوہُ بَیْتًا ، وَأَغْلَقْتُمْ عَلَیْہِ بَابًا ، وَأَطْعَمْتُمُوہُ کُلَّ یَوْمٍ رَغِیفًا ، ثُمَّ اسْتَتَبْتُمُوہُ ثَلاَثًا فَإِنْ تَابَ وَإِلاَّ قَتَلْتُمُوہُ؟ ثُمَّ قَالَ: اللَّہُمَّ لَمْ أَشْہَدْ، وَلَمْ آمُرْ، وَلَمْ أَرْضَ إِذْ بَلَغَنِی، أَوْ حِینَ بَلَغَنِی۔
(٣٤٥٢١) حضرت محمد بن عبد الرحمن کے والد فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمر (رض) کو تستر کی فتح کی خبر ملی تو آپ نے پوچھا کہ کیا وہاں کوئی عجیب بات پیش آئی ؟ آپ کو بتایا گیا کہ ایک مسلمان مرتد ہو کر مشرکین سے جاملا، ہم نے اس پکڑ لیا۔ حضرت عمر نے پوچھا کہ تم نے پھر اس کا کیا کیا ؟ لوگوں نے بتایا کہ ہم نے اسے قتل کردیا۔ آپ نے فرمایا کہ تم نے اسے قید میں کیوں نہ رکھا، تمہیں چاہیے تھا کہ اسے تین دن قید میں رکھتے، اسے روزانہ ایک روٹی دیتے اور اسلام میں واپس آنے کا کہتے۔ اگر وہ توبہ کرلیتا تو ٹھیک وگرنہ تم اسے قتل کردیتے۔ پھر حضرت عمر نے دعا کی کہ اے اللہ ! تو گواہ رہنا میں نے اس کا حکم بھی نہیں دیا اور میں اس پر راضی بھی نہیں ہوں۔