(۳۴۵۲۴) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ کَیْسَانَ ، قَالَ سَمِعْتُ شُویسًا الْعَدَوِیَّ یَقُولُ : غَزَوْتُ مَیْسَانَ فَسَبَیْتُ جَارِیَۃً ، فَنَکَحْتُہَا حَتَّی جَائَ کِتَابٌ مِنْ عُمَرَ : رُدُّوا مَا فِی أَیْدِیکُمْ مِنْ سَبْیِ مِیسَانَ فَرَدَدْتُ فَلاَ أَدْرِی عَلَی أَیِّ حَالٍ رُدَّدتْ ، حَامِلٌ ، أَوْ غَیْرُ حَامِلٍ ؟ حَتَّی یَکُونَ أَعْمَرَ لِقُرَاہُمْ ، وَأَوْفَرُ لِخَرَاجِہِمْ۔
(ابو عبید ۳۷۸)
(٣٤٥٢٤) حضرت شویس عدوی کہتے ہیں کہ میں نے میسان کی جنگ میں حصہ لیا، میں نے ایک باندی کو قیدی بنایا اور اس سے نکاح کیا۔ پھر ہمارے پاس حضرت عمر کا خط آیا جس میں لکھا تھا کہ میسان کے قیدیوں کو واپس کردو، میں نے اس باندی کو واپس کردیا اور میں نہیں جانتا کہ وہ حاملہ تھی یا نہیں تھی۔ یہ ان کی بستی کے لیے زیادہ آبادی اور زیادہ خراج کی وصولی کا سبب تھا۔