(۳۴۵۲۵) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ سِمَاکٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عِیَاضًا الأَشْعَرِیَّ ، قَالَ : شَہِدْتُ الْیَرْمُوکَ ، وَعَلَیْنَا خَمْسَۃُ أُمَرَائَ : أَبُو عُبَیْدَۃَ بْنُ الْجَرَّاحِ وَیَزِیدُ بْنُ أَبِی سُفْیَانَ وَابْنُ حَسَنَۃَ وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِید وَعِیَاضٌ ، وَلَیْسَ عِیَاضٌ ہَذَا بِاَلَّذِی حَدَّثَ عَنْہُ سِمَاکٌ ، قَالَ : وَقَالَ عُمَرُ : إِذَا کَانَ قِتَالٌ فَعَلَیْکُمْ أَبُو عُبَیْدَۃَ ، قَالَ : فَکَتَبْنَا إِلَیْہِ : إِنَّہُ قَدْ جَاشَ إِلَیْنَا الْمَوْتُ وَاسْتَمْدَدْنَاہُ ، قَالَ : فَکَتَبَ إِلَیْنَا : إِنَّہُ قَدْ جَائَنِی کِتَابُکُمْ تَسْتَمِدُّونَنِی وَإِنِّی أَدُلَّکُمْ عَلَی مَنْ ہُوَ أَعَزَّ نَصْرًا وَأَحْضَرَ جُنْدًا ، فَاسْتَنْصَرُوہُ ، وَإِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ کَانَ نُصِرَ یَوْمَ بَدْرٍ فِی أَقَلَّ مِنْ عِدَّتِکُمْ ، فَإِذَا أَتَاکُمْ کِتَابِی ہَذَا فَقَاتَلُوہُمْ، وَلاَ تُرَاجِعُونِی، قَالَ: فَقَاتَلْنَاہُمْ، فَہَزَمْنَاہُمْ ، وَقَتَلْنَاہُمْ فِی أَرْبَعَۃِ فَرَاسِخَ ، قَالَ : وَأَصَبْنَا أَمْوَالاً ، قَالَ : فَتَشَاوَرْنَا فَأَشَارَ عَلَیْنَا عِیَاضٌ أَنْ نُعْطِیَ کُلِّ رَأْسٍ عَشَرَۃً۔
قَالَ : وَقَالَ أَبُو عُبَیْدَۃَ : مَنْ یُرَاہِنُنِی ؟ قَالَ : فَقَالَ شَابٌّ : أَنَا ، إِنْ لَمْ تَغْضَبْ ، قَالَ : فَسَبَقَہُ ، قَالَ : فَرَأَیْتُ عَقِیصَتَیْ أَبِی عُبَیْدَۃَ تَنْقُزَانِ ، وَہُوَ خَلْفَہُ عَلَی فَرَسٍ عَربِیٍّ۔
(٣٤٥٢٥) حضرت عیاض اشعری کہتے ہیں کہ میں جنگ یرموک میں شریک تھا، اس میں ہمارے پانچ امیر تھے : حضرت ابو عبیدہ بن جراح، حضرت یزید بن ابی سفیان، حضرت ابن حسنہ، حضرت خالد بن ولید اور حضرت عیاض۔ اور حضرت عمر نے فرمایا تھا کہ جب لڑائی ہو تو حضرت ابو عبیدہ کی اطاعت کو لازم پکڑنا۔ پھر اس لڑائی میں ہم شدید خطرات میں گھر گئے تو ہم نے حضرت عمر سے مدد طلب کی۔ انھوں نے جواب میں لکھا کہ تمہارا خط مجھے ملا ہے جس میں تم نے مجھ سے مددمانگی ہے۔ میں تمہیں اس اللہ سے مدد مانگنے کو کہتا ہوں جس کی مدد زیادہ غالب ہے اور جس کا لشکر زیادہ مضبوط ہے اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غزوہ بدر میں تم سے کم تعداد کے ساتھ دشمن کو شکست دی تھی، جب میرا یہ خط تمہارے پاس پہنچ جائے تو میری طرف رجوع نہ کرنا۔ اس خط کے ملنے کے بعد ہم نے خوب لڑائی کی اور دشمن کو شکست دے دی۔ ہم نے چار فرسخ تک ان سے لڑائی کی اور بہت سا مال حاصل کیا۔ پھر ہم نے آپس میں مال کی تقسیم کے بارے میں مشورہ کیا تو حضرت عیاض نے مشورہ دیا کہ ہر ایک کو دس دیئے جائیں۔
پھر حضرت ابو عبیدہ نے فرمایا کہ مجھ سے کون دوڑ لگائے گا۔ ایک نوجوان نے کہا کہ اگر آپ ناراض نہ ہوں تو میں آپ کے ساتھ دوڑ لگاتا ہوں۔ پھر وہ نوجوان آگے نکل گیا۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ حضرت ابو عبیدہ اپنے عربی گھوڑے پر اس نوجوان کے پیچھے تھے اور ان کے بالوں کی مینڈھیاں اڑ رہی تھیں۔