(۳۴۵۳۱) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ، قَالَ: لَمَّا أَسْلَمَ عِکْرِمَۃُ بْنُ أَبِی جَہْلٍ، أَتَی النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ وَاللہِ ، لاَ أَتْرُکُ مَقَامًا قُمْتَہُ لأَصُدَّ بِہِ عَنْ سَبِیلِ اللہِ ، إِلاَّ قُمْتُ مِثْلَہُ فِی سَبِیلِ اللہِ، وَلاَ أَتْرُکُ نَفَقَۃً أَصُدَّ بِہَا عَنْ سَبِیلِ اللہِ، إِلاَّ أَنْفَقْتُ مِثْلَہَا فِی سَبِیلِ اللہِ، فَلَمَّا کَانَ یَوْمُ الْیَرْمُوکِ نَزَلَ فَتَرَجَّلَ ، فَقَاتَلَ قِتَالاً شَدِیدًا ، فَقُتِلَ فَوُجِدَ بِہِ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ ، مِنْ بَیْنِ طَعْنَۃٍ ، وَضَرْبَۃٍ ، وَرَمْیَۃٍ۔
(٣٤٥٣١) حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ جب عکرمہ بن ابوجہل نے اسلام قبول کیا اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! میں نے اللہ کے راستے سے روکنے کے لیے جو طریقہ کار اختیار کیا تھا میں وہ ہر طریقہ اللہ کے راستے میں اختیار کروں گا اور جتنا مال میں نے اللہ کے راستے سے روکنے کے لیے خرچ کیا تھا اتنا ہی مال میں اللہ کے راستے میں خرچ کروں گا۔ جنگ یرموک میں حضرت عکرمہ (رض) سواری سے اتر کر پیدل لڑے اور زبردست لڑائی کی، پھر وہ شہید ہوگئے اور ان کے جسم پر نیزوں، تلواروں اور تیروں کے ستر سے زیادہ نشانات تھے۔