(۳۴۵۳۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عْن أَبِیہِ ، قَالَ : لَمَّا أَتَی أَبُو عُبَیْدَۃَ الشَّامَ حُصِرَ ہُوَ وَأَصْحَابُہُ ، وَأَصَابَہُمْ جَہْدٌ شَدِیدٌ فَکَتَبَ إِلَیْہِ عُمَرُ : سَلاَمٌ عَلَیْکُمْ ، أَمَّا بَعْدُ ، فَإِنَّہُ لَمْ تَکُنْ شِدَّۃٌ إِلاَّ جَعَلَ اللَّہُ بَعْدَہَا فَرْجًا وَلَنْ یَغْلِبَ عُسْرٌ یُسْرَیْنِ وَکَتَبَ إِلَیْہِ : {یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اصْبِرُوا وَصَابِرُوا وَرَابِطُوا وَاتَّقُوا اللَّہَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ} ، قَالَ : فَکَتَبَ إِلَیْہِ أَبُو عُبَیْدَۃَ : سَلاَمٌ ، أَمَّا بَعْدُ ، فَإِنَّ اللَّہَ ، قَالَ : {إِنَّمَا الْحَیَاۃُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَلَہْوٌ وَزِینَۃٌ وَتَفَاخُرٌ بَیْنَکُمْ وَتَکَاثُرٌ فِی الأَمْوَالِ وَالأَوْلاَدِ} إِلَی آخِرِ الآیَۃِ ، قَالَ : فَخَرَجَ عُمَرُ بِکِتَابِ أَبِی عُبَیْدَۃَ ، فَقَرَأَہُ عَلَی النَّاسِ ، فَقَالَ : یَا أَہْلَ الْمَدِینَۃِ إِنَّمَا کَتَبَ أَبُو عُبَیْدَۃَ یُعَرِّضُ بِکُمْ ، وَیَحُثُّکُمْ عَلَی الْجِہَادِ۔
قَالَ زَیْدٌ : قَالَ أَبِی : فَإِنِّی لَقَائِمٌ فِی السُّوقِ ، إِذْ أَقْبَلَ قَوْمٌ مُبَیَّضِینَ ، قَدْ ہَبَطُوا مِنَ الثَّنِیَّۃِ ، فِیہِمْ حُذَیْفَۃُ بْنُ الْیَمَانَ یُبَشِّرُونَ ، قَالَ : فَخَرَجْتُ أَشْتَدُّ حَتَّی دَخَلْتَ عَلَی عُمَرَ ، فَقُلْتُ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، أَبْشِرْ بِنَصْرِ اللہِ وَالْفَتْحِ ، فَقَالَ عُمَرُ : اللَّہُ أَکْبَرُ ، رُبَّ قَائِلٍ لَوْ کَانَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ۔
(٣٤٥٣٢) حضرت اسلم فرماتے ہیں کہ جب حضرت ابو عبیدہ شام آئے تو وہ اور ان کے ساتھی گھیر لیے گئے اور انھیں شدید تکلیف کا سامنا کرنا پڑا۔ حضرت عمر نے ان کی طرف خط لکھاجس میں سلام کے بعد تحریر کیا کہ اللہ نے ہر پریشانی کے بعد آسانی رکھی ہے۔ کوئی ایک پریشانی دو آسانیوں پر غالب نہیں آسکتی۔ آپ نے قرآن مجید کی یہ آیت بھی ان کی طرف لکھ بھیجی { یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اصْبِرُوا وَصَابِرُوا وَرَابِطُوا وَاتَّقُوا اللَّہَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ } راوی کہتے ہیں کہ اس کے بعد حضرت ابو عبیدہ نے انھیں جواب میں تحریر کیا {إِنَّمَا الْحَیَاۃُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَلَہْوٌ وَزِینَۃٌ وَتَفَاخُرٌ بَیْنَکُمْ وَتَکَاثُرٌ فِی الأَمْوَالِ وَالأَوْلاَدِ } پھر حضرت عمر (رض) نے حضرت ابو عبیدہ کا خط لوگوں کو سنایا اور ان سے فرمایا کہ اے مدینہ والو ! حضرت ابو عبیدہ تمہیں جہاد کی ترغیب دے رہے ہیں۔
حضرت زید فرماتے ہیں کہ میرے والد نے فرمایا کہ میں بازار میں کھڑا تھا کہ کچھ لوگ وادی سے اترتے ہوئے آئے، ان میں حضرت حذیفہ (رض) بھی تھے اور وہ فتح کی خوشخبری دے رہے تھے۔ میں بھی خوشی میں باہر آیا اور حضرت عمر کے پاس حاضر ہوا اور میں نے ان سے کہا کہ اے امیر المومنین اللہ کی مدد اور فتح کی خوشخبری ہو۔ حضرت عمر نے اللہ اکبر کہا۔ کسی کہنے والے نے کہا کہ کاش خالد بن ولید ہوتے۔