(۳۴۵۴۴) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ عَیَّاشٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ یَزِیدَ الرَّحَبِیِّ ، وَمُحَمَّدٍ الْخَوْلاَنِیِّ ، عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ رُوَیْمٍ ، قَالَ : کَتَبَ عُمَرُ إِلَی أَبِی عُبَیْدَۃَ کِتَابًا فَقَرَأَہُ عَلَی النَّاسِ بِالْجَابِیۃِ : مِنْ عَبْدِ اللہِ عُمَرَ أَمِیرَ الْمُؤْمِنینَ إِلَی أَبِی عُبَیْدَۃَ : سَلاَمٌ عَلَیْک ، أَمَّا بَعْدُ ، فَإِنَّہُ لَمْ یُقِمْ أَمْرَ اللہِ فِی النَّاسِ ، إِلاَّ حَصِیفُ الْعَقْلِ بَعِیدُ الْقُوَّۃَ لاَ یَطَّلِعُ النَّاسُ مِنْہُ عَلَی عَوْرَۃٍ ، وَلاَ یَحْنِقُ فِی الْحَقِّ عَلَی جرِّتِہِ وَلاَ یَخَافُ فِی اللہِ لَوْمَۃَ لاَئِمٍ ، وَالسَّلاَمُ عَلَیْک۔
(٣٤٥٤٤) حضرت عروہ بن رویم فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے حضرت ابو عبیدہ بن جراح کو خط لکھا، جو حضرت ابو عبیدہ نے جابیہ میں لوگوں کو پڑھ کر سنایا، اس میں تحریر تھا : اللہ کے بندے عمر امیر المومنین کی طرف سے ابو عبیدہ کے نام، تم پر سلامتی ہو، لوگوں میں اللہ کے حکم کو وہی شخص نافذ کرسکتا ہے جس کی عقل روشن ہو اور قوت خوب ہو، لوگ اس کے رازوں پر واقف نہ ہوسکیں اور وہ حق کے نفاذ میں گھبراتا نہ ہو اور اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہ کرے۔ تم پر سلامتی ہو۔